رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہیئۃ علماء فلسطین نے غاصب اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی اجازت دینے والے قانون کے منصوبے کی پہلی اور دوسری قرات میں منظوری کی شدید مذمت کی ہے، اور اس اقدام کو “مرکب جرم اور کھلی جارحیت” قرار دیا ہے۔
ہیئۃ نے آج بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں، اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون کا منصوبہ جیلوں کو سالوں کے تشدد اور غفلت کے بعد “براہ راست قتل کے میدانوں” میں تبدیل کر دے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کی کہ اسیران کی زندگیوں سے کھیلنا “شرعی طور پر حرام جارحیت اور بہت بڑا جرم” ہے، اور اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا۔
انہوں نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی اسیران کی مختلف اشکال کی مادی، معنوی اور میڈیا حمایت کے ذریعے نصرت کریں، ان کے قضیے کو عوامی شعور میں زندہ رکھنے کے لیے کام کریں، اور اس بات پر زور دیا کہ نصرت کا فرض انہیں رہا کرنے اور ان سے ظلم اٹھانے کے لیے سنجیدہ کوششوں سے شروع ہوتا ہے۔
انہوں نے علماء، مبلغین اور خطباء سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے خطبات اور اسباق میں اسیران کے مسئلے کو اجاگر کریں۔ ان کے بارے میں عوام کے شعور اور ذمہ داریوں کو بڑھائیں، اس کے علاوہ انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیں کہ وہ اس “جرم” کو روکنے کے لیے حرکت میں آئیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ اسے روکا جا سکے۔
ہیئۃ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات کی تصدیق کی کہ اسیران کا قضیہ “امت کی عزت کا عنوان اور مظلوم کی نصرت میں اس کی سچائی کا پیمانہ” ہے، اور ان کی حفاظت کرنے اور ان کی رہائی کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔
