غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) خونخوار غاصب صیہونی دشمن کی درندگی کی ایک اور لرزہ خیز داستان سامنے آئی ہے۔ محمد ابو نصار کا فون اچانک بج اٹھا، دوسری طرف سے آواز آئی “اپنے بیٹے اسامہ کو بچاؤ، وہ اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ مشرق کی طرف ‘پیلی لائن’ کی جانب بڑھ رہا ہے”۔ محمد ابو نصار کو اس کا مطلب سمجھنے کے لیے کسی وضاحت کی ضرورت نہ تھی۔ کیمپ سے اس لائن کا فاصلہ محض چند سو میٹر تھا، لیکن یہ فاصلہ زندگی اور موت کے درمیان تھا۔ غاصب اسرائیلی فوج نے یہاں کنکریٹ کے پیلے بلاکس رکھ کر اسے ‘موت کی کھلی زون’ قرار دے رکھا ہے، جہاں جانے کا مطلب سیدھی گولی کا نشانہ بننا ہے۔
پریشان حال باپ دیوانہ وار بھاگا لیکن اپنے بیٹے کو نہ پا سکا۔ آس پاس موجود لوگوں نے اسے روک لیا کہ کہیں وہ بھی صیہونی درندوں کی گولی کا نشانہ نہ بن جائے۔ وہ بے بسی کی تصویر بنا دور سے دیکھتا رہا۔ عمارتوں کی چھتوں پر موجود عینی شاہدین اسے صورتحال بتا رہے تھے۔ اسامہ لڑکھڑاتے قدموں سے مشرق کی طرف بڑھ رہا تھا، اس نے اپنے ننھے شیر خوار بچے جواد کو کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ وہ نہ چھپنے کی کوشش کر رہا تھا اور نہ بھاگنے کی، جیسے اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
اسامہ کا یہ غیر معمولی رویہ اس کے گھر والوں کے لیے مکمل طور پر حیران کن نہیں تھا۔ تقریباً دو ہفتے پہلے سے اس کی نفسیاتی حالت واضح طور پر خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس نے گھر کا فرنیچر توڑ دیا، پڑوسیوں اور گھر والوں کے ساتھ اس کے جھگڑے بڑھ گئے تھے اور وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔
خاندان نے “الجزیرہ ڈاٹ نیٹ” سے گفتگو کرتے ہوئے اس نفسیاتی گراوٹ کا تعلق دو ماہ قبل ہونے والی غاصب اسرائیلی بمباری سے جوڑا، جس میں اس کا گھوڑا مارا گیا تھا۔ یہ گھوڑا ہی اس کا ذریعہ معاش تھا۔ کام ختم ہو جانے اور خاندان کی کفالت کرنے کی صلاحیت کھو دینے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا تھا۔
اتوار کی صبح عید الفطر کے دوسرے دن اسامہ نارمل لگ رہا تھا۔ اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ بچے کو مٹھائی دلانے لے جا رہا ہے اور گھر سے نکل گیا۔ لیکن اس کا راستہ مغرب کے بجائے مشرق کی طرف مڑ گیا۔ وہ اس کھلے علاقے کے قریب پہنچ گیا جہاں اس کے گرد فائرنگ شروع ہو گئی۔ والد کے مطابق شروع میں گولیاں اسے نہیں لگیں، لیکن اس سے وہ پیچھے بھی نہیں ہٹا۔
اس کے بعد ایک نیچی اڑان بھرنے والا ڈرون طیارہ نمودار ہوا، جس کے لاؤڈ سپیکر سے احکامات نشر ہو رہے تھے۔ تبھی اسامہ کے رویے میں تبدیلی آئی۔ وہ رک گیا۔ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے نمائندوں کی طرف سے خاندان کو دی گئی معلومات کے مطابق اس کے کندھے پر گولی لگی تھی۔ اس نے بچے کو کندھوں سے اتارا، پھر حکم کے مطابق اپنے کپڑے اتارنے لگا، اور بچے کو پیچھے چھوڑ کر غاصب اسرائیلی فوجیوں کی طرف بڑھا۔ اس لمحے کے بعد سے، باپ اور بچہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
خاندان طویل گھنٹوں تک شدید تشویش کا شکار رہا، یہاں تک کہ شام کو ریڈ کراس کی طرف سے فون آیا کہ بچہ حوالے کر دیا گیا ہے، اور باپ کے زخمی ہونے کا اشارہ دیا گیا۔ دادا بچے کو لینے مقررہ جگہ پر پہنچا۔ اس نے اپنے پوتے کو ایک ہلکے سے کمبل میں لپٹا ہوا پایا، اور اس کے کپڑوں پر خون کے نشانات دیکھے۔ اسے بتایا گیا کہ یہ اس کے زخمی والد کا خون ہے۔
لیکن جیسے ہی بچہ گھر واپس آیا، صدمے کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ وہ مسلسل رو رہا تھا۔ جب اس کا معائنہ کیا گیا تو پاؤں پر چوٹوں کے نشانات ملے، جن میں خون بہنا، زخم اور جلنے کے نشانات شامل تھے۔ اسے الاقصیٰ شہداء ہسپتال منتقل کیا گیا۔ خاندان نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا کہ معائنے سے ظاہر ہوا کہ یہ چوٹیں کسی دھماکے کے ٹکڑوں یا گولیوں کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ وحشیانہ اور دانستہ تشدد کے نشانات ہیں۔
دادا کی روایت کے مطابق ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ بچے کو جلایا گیا ہے، ممکنہ طور پر کسی لائٹر یا سگریٹ کے ٹکڑوں سے، اس کے علاوہ اس کی ٹانگ میں کسی تیز دھار آلے کو گھسانے سے گہرا سوراخ کیا گیا ہے۔ خاندان کا خیال ہے کہ بچے پر اس لیے تشدد کیا گیا تاکہ اس کے والد پر دباؤ ڈالا جا سکے، باوجود اس کے کہ وہ نفسیاتی طور پر غیر مستحکم تھا۔
واپسی کے بعد سے ننھے جواد کا رویہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ وہ مسلسل درد میں مبتلا ہے، سو نہیں پاتا، شدید روتا ہے، تیز بخار ہے اور بار بار قے کرتا ہے۔ اس کی ماں رات بھر اس کے پاس جاگتی رہتی ہے، پٹیوں اور مرہموں سے اس کا درد کم کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور اس کی حالت بہتر ہونے کی منتظر ہے۔
دوسری طرف خاندان اب تک اسامہ کی قسمت سے بے خبر ہے۔ اس دن کی تفصیلات یادوں میں نقش ہو گئی ہیں۔ عید کی صبح ایک معمولی سیر کے لیے نکلنا، جو باپ کی گمشدگی اور ایک ایسے شیر خوار بچے کی واپسی پر ختم ہوا جو صیہونی سفاکیت کے نشانات اٹھائے ہوئے ہے، ایک ایسا سفر جس سے یہ خاندان اب کبھی پہلے جیسا نہیں رہ سکے گا۔
