بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان عسکری تصادم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث محاذ آرائی کے طویل ہونے اور اس کے دائرہ کار میں وسعت کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ انسانی بحران بھی سنگین تر ہوتا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان خطرناک اثرات سے خبردار کیا ہے جو جنگی جرائم کی حد تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیل کی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے طویل عرصے تک دفاعی اور جارحانہ عسکری آپریشنز جاری رکھنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر حزب اللہ مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اپنی عسکری کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 آپریشنز کیے گئے ہیں۔ یہ کارروائیاں لبنانی حدود اور قابض اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں کی گئیں جن میں اسرائیلی جارحیت کے جواب میں تقریبا 7 کلومیٹر گہرائی تک واقع ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
میدانی صورتحال یہ ہے کہ پیر کی صبح قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں بریقہ قصبے کے گردونواح پر بمباری کی جبکہ عسکری تصادم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسی طرح مارون الراس کے قصبوں اور ناقورہ، زبقین، حامول اور طیر حرفا کے مضافات کو قابض اسرائیل کی شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان علاقوں میں سخت کشیدگی پھیل گئی اور جنوبی لبنان میں فوجی آپریشنز کا دائرہ مزید پھیل گیا۔
بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے پیر کو علی الصبح دریائے لیطانی پر واقع القعقعیہ پل کو تباہ کر دیا جو کہ خطے کی اہم تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کا حصہ ہے۔ یہ پل دریا کے دونوں کناروں کو ملانے والے پانچ اہم پلوں میں سے ایک ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اب تک ان میں سے تین پل تباہ کر دیے ہیں جس سے شمال اور جنوب کے درمیان نقل و حرکت معطل ہو کر رہ گئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
صور ضلع کے قصبے شہابیہ میں ایک گھر پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک شخص شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ اس حملے سے نشانہ بننے والے گھر اور اس کے گردونواح کو شدید نقصان پہنچا جبکہ امدادی ٹیموں نے زخمی کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔ علاقے میں تاحال شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
دس لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی
انسانی بنیادوں پر بحران تیزی سے سنگین ہو رہا ہے کیونکہ تخمینوں کے مطابق لبنان میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ کشیدگی سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کی لہر مسلسل جاری ہے جس نے محفوظ قرار دیے جانے والے علاقوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے جو اب مزید پناہ گزینوں کو گنجائش فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
نقل مکانی کے ان اثرات نے ساحلی شہر صور کے فلسطینی کیمپوں اور ان کی بستیوں میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی پناہ گزین مشکل انسانی حالات اور بے گھر ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر متبادل مقامات کی تلاش پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اسی دوران انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ‘ہیومن رائٹس وواچ’ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کی زمینی جارحیت میں توسیع اور شہریوں پر فضائی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آنے والی خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبادی کو جبری طور پر بے گھر کرنا ہے۔
تنظیم نے بدلتی ہوئی میدانی اور انسانی صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی برادری سے اپنے موقف پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ جو ممالک قابض اسرائیل کو اسلحہ اور عسکری امداد فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں وہ ان خلاف ورزیوں میں براہ راست ملوث یا سہولت کار سمجھے جا سکتے ہیں۔
