صنا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یمن کی جماعت انصار اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے گی۔ جماعت نے خبردار کیا ہے کہ جارحیت کا دائرہ وسیع کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی طور پر عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔
یہ موقف جماعت کی حکومت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سامنے آیا ہے جسے ہفتے کی شام سرکاری خبر رساں ایجنسی (سبا) نے شائع کیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے خلاف قابض اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت مسلسل جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے امت کے بیٹوں کے خلاف اپنی جارحیت کے ذریعے خود کو ایک بڑی اسٹریٹجک مشکل میں ڈال دیا ہے اور اب وہ دوسروں کو بھی اس دلدل میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں وہ خود دھنس چکا ہے، جبکہ کچھ قوتیں اسے اس دلدل سے نکالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
انصار اللہ نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے سے غیر ملکی طاقتوں کو خطے میں لانے کی کوئی بھی کوشش اس معرکے میں سب سے پہلے نقصان اٹھانے والی ثابت ہوگی۔
جماعت نے مزید خبردار کیا کہ جارحیت کے دائرے کو پھیلانے کی کوششیں پورے خطے کی صورتحال بشمول رسد کے نظام، توانائی کے نرخوں اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ خطے میں امت کے غیور اور آزاد فرزند کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ انصار اللہ نے امت کے تمام باضمیر افراد کو صفوں میں اتحاد، کوششوں میں ہم آہنگی اور تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے اور یہ معرکہ پوری امت کا معرکہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انصار اللہ تمام تر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ اس حوالے سے مناسب اقدامات اٹھائے گی اور ہرگز خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔
گذشتہ جمعرات کو جماعت کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا تھا کہ ان کی جماعت خطے کی صورتحال کے تقاضوں کے مطابق عسکری طور پر پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشیدگی میں اضافہ اور جارحیت کی توسیع خطے میں دشمنوں یعنی قابض اسرائیل کا مستقل راستہ ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ 28 فروری سنہ 2026ء سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران پر مسلسل جارحیت کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اہم سکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔ اس کے جواب میں تہران کی جانب سے قابض اسرائیل کی طرف میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔
ایران ان مقامات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ عرب ممالک میں امریکی مفادات قرار دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جن کی متعلقہ ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔
