غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وسطی غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں عید الفطر کے تیسرے دن کی خوشیوں کو اس وقت سوگ میں بدل دیا گیا جب قابض اسرائیل نے پولیس کی ایک گاڑی کو اپنی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے اور متعدد شہری زخمی ہوئے۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے کیمپ کے اندر ابو صرار چوک پر پولیس کی ایک گاڑی پر میزائل داغے جس سے تین افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے العودہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
وزارت داخلہ اور قومی سکیورٹی نے اس حوالے سے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ قابض دشمن کے طیاروں نے اس وقت پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جب وہ وسطی گورنری میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے جا رہی تھی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں کئی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق شہدا میں علی ابو ربیع، احمد حمدان اور اسامہ طباشہ کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ چوتھے شہید کی شناخت کے حوالے سے تاحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
یہ مجرمانہ کارروائی گذشتہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ہونے والا دوسرا ایسا واقعہ ہے جب وسطی غزہ کے علاقے الزوایدہ میں پولیس کی ایک اور گاڑی کو اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں نو شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
قابض اسرائیل کی افواج غزہ میں جنگ بندی کے معاہدوں کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں اور مختلف علاقوں میں توپ خانے، ڈرون طیاروں اور فائرنگ کے ذریعے معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس سے انسانی صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انتہائی خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔
