غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) باوثوق ذرائع کے مطابق امن کونسل نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کو ایک تحریری تجویز پیش کی ہے جس میں اسلحہ پھینکنے کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس نے اب تک اس قسم کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ تجویز جس کی سب سے پہلے میڈیا ادارے این پی آر نے اطلاع دی تھی گذشتہ ہفتے قاہرہ میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران حماس کو پیش کی گئی۔
باخبر ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان مذاکرات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادی نوف اور خصوصی ایلچی کے معاون وٹکوف کے دستِ راست اریہ لائٹ اسٹون نے شرکت کی۔
غزہ کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ جس پراکتوبر سنہ 2025ء میں قابض اسرائیل اور حماس نے اتفاق کیا تھا اس کے تحت غزہ سے قابض افواج کے انخلاء اور تعمیر نو کے آغاز کی شرط حماس کے اسلحہ چھوڑنے سے مشروط کی گئی ہے۔
نکولے ملادی نوف نے جمعرات کے روز وضاحت کی کہ جنگ کی سفاکیت سے چھلنی غزہ کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں اور ثالثوں کے درمیان ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق ہوا ہے جو غزہ میں تعمیر نو کے عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ نے غزہ کے تقریبا 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
نکولے ملادی نوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ معاملہ اب میز پر ہے اور یہ ایک واضح انتخاب کا تقاضا کرتا ہے کہ حماس اور تمام مسلح گروہ بغیر کسی استثنیٰ کے مکمل طور پر اسلحہ چھوڑ دیں۔ اس پرامید وقت میں ہمیں امید ہے کہ ذمہ داران فلسطینی عوام کے لیے بہترین انتخاب کریں گے۔
اسلحہ چھوڑنے کے حوالے سے مذاکرات گذشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور قابض اسرائیلی سفاکیت کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
اکتوبر سنہ 2025ء میں غزہ میں جنگ بندی کے جس معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا اس میں تحریک حماس کے اسلحہ چھوڑنے سے متعلق ایک شق شامل تھی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے مطابق اسے نفاذ کے پہلے مرحلے میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی واضح وقت مقرر کیا گیا تھا۔
اس حساس فائل کو دوسرے مرحلے تک مؤخر کر دیا گیا تھا جس کا تعلق غزہ میں حکمرانی کے انتظامات سے ہے تاہم اس کے طریقہ کار پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ قابض اسرائیل اسے اپنا بنیادی اور جوہری مقصد قرار دیتا ہے جبکہ حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلحہ کا معاملہ خالصتاً فلسطینی قومی فریم ورک کے اندر ہی زیر بحث لایا جائے گا۔
اگرچہ حماس نے غزہ پر مسلط نسل کشی کی حامل جنگ کو روکنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن گذشتہ بیانات میں تحریک کا کہنا تھا کہ اس کے نفاذ کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ تحریک کے سینیئر رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے جنوری کے آخر میں الجزیرہ کو دیے گئے ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ اسلحہ سے متعلق شقیں منجمد کرنے اور غیر مسلح کرنے کے درمیان مختلف صیغوں میں تھیں اور انہیں ابھی تک باقاعدہ طور پر مذاکرات کی میز پر نہیں لایا گیا۔
اس معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد 10 اکتوبر سے شروع ہوا تھا جس میں سیز فائر اور قابض اسرائیلی فوج کا نام نہاد پیلی لائن تک پیچھے ہٹنا اور قیدیوں کا تبادلہ شامل تھا۔
امریکہ نے بعد ازاں معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا جس میں غزہ میں حکمرانی کے انتظامات اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل اور پٹی سے اسلحہ کا خاتمہ شامل ہے۔
دس اکتوبر سنہ 2025ء سے غزہ میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود غاصب قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ میں وزارت صحت کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 677 فلسطینی شہید اور 1813 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر نسل کشی کے متاثرین کی تعداد 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہداء اور تقریبا 1 لاکھ 72 ہزار زخمیوں تک جا پہنچی ہے اس کے علاوہ 90 فیصد انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
