غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) عید الفطر کی صبح غزہ کے بچے روایتی جوش و خروش کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کے دروازوں پر دستک دیا کرتے تھے، ان کی معصوم آنکھوں میں خوشیاں رقص کرتی تھیں اور وہ “عیدی” کے منتظر ہوتے تھے، جو ایک ایسی قدیم روایت ہے جس کے بغیر عید کا تصور ادھورا سمجھا جاتا ہے۔
تاہم یہ منظر جو دہائیوں سے فلسطینیوں کے اجتماعی حافظے کا حصہ رہا ہے، آج نمایاں طور پر بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ قابض اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ، مسلسل نسل کشی اور نقدی کے سنگین بحران نے ایک ایسی تلخ حقیقت کو جنم دیا ہے جس نے زندگی کے تمام پہلوؤں بشمول خوشی کے ان سادہ مظاہر کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔
علامتی تبدیلی: نقدی کے بجائے متبادل اشیاء
اب بہت سے گھرانوں میں عیدی نقدی کی صورت میں نہیں رہی جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتا تھا، بلکہ یہ اب علامتی تحائف میں بدل چکی ہے جو معاشی بدحالی اور قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی عکاس ہے۔ چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا، ٹافیوں کا چھوٹا سا پیکٹ یا کوئی معمولی سا پلاسٹک کا کھلونا اب ان خاندانوں کے پاس دستیاب آپشنز ہیں جو عید کی روایات کو کم از کم سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کئی بچوں کے والد محمود شریتح کہتے ہیں “میں ہر سال اپنے بچوں کے لیے ایک مخصوص رقم بچا کر رکھتا تھا “۔
جب بھی غزہ کے مظلوم عوام پر عید الفطر کا چاند طلوع ہوتا ہے تو یہاں کے باسیوں کے ذہنوں میں دو متضاد تصویریں ابھرتی ہیں۔ ایک ماضی کی جو زندگی اور خوشیوں سے بھرپور تھی اور دوسری حال کی جو جدائیوں، محرومیوں اور نقصانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ان دو تصویروں کے درمیان غزہ میں عید کی وہ داستان رقم ہو رہی ہے جو اس خطے اور انسانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تبدیلیوں کی عکاس ہے۔
ماضی کی عید: جب چھوٹی چھوٹی تفصیلات خوشیاں بکھیرتی تھیں
68 سالہ بزرگ حاج احمد ابو مہادی گذشتہ یادوں کو تازہ کرتے ہوئے حسرت کے ساتھ کہتے ہیں: “ہم پہلی رات سے ہی عید کا انتظار کرتے تھے۔ فجر کی نماز کے لیے نکلتے اور پھر گھر گھر جا کر ملاقاتیں شروع ہوتیں۔ زیادہ کچھ میسر نہیں تھا مگر خوشیاں بہت بڑی تھیں”۔
انہوں نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا: “بچے معمولی رقم سے بھی خوش ہو جاتے تھے۔ عیدی کی مقدار اہم نہیں تھی بلکہ یہ ہمارے لیے سب کچھ تھی”۔
63 سالہ حاجہ مریم شلایل گھروں کی چہل پہل کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں: “ہم عید سے کئی دن پہلے کیک (کعک) بنانا شروع کر دیتے تھے اور محلے کی خواتین جمع ہو جاتی تھیں۔ عید محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک اجتماعی روح کا نام تھا”۔
آج کی عید: ادھوری روایات اور سنگین حقائق
دوسری جانب 45 سالہ سامر ثابت موجودہ تلخ حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں: “آج ہم عید کا ماحول بنانے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر سب کچھ بدل چکا ہے۔ نہ کچھ خریدنے کی ہمت ہے اور نہ ہی وہ پہلے جیسا دل رہا”۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ “حتیٰ کہ میل ملاقاتیں بھی کم ہو گئی ہیں کیونکہ لوگ زندگی کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں”۔
39 سالہ ام لؤی بصلہ کہتی ہیں: “میرے بچے مجھ سے عید کے نئے کپڑوں اور عیدی کا پوچھتے ہیں اور بعض اوقات میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ ہم چھوٹی موٹی چیزوں سے ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر فرق واضح ہے”۔
بچے: وہ حافظہ جو ابھی مکمل نہیں ہوا
10 سالہ ننھا سمیع کہتا ہے “ابو مجھے بتاتے تھے کہ پرانے وقتوں میں عید کیسی ہوتی تھی اور وہ کیسے کھیلتے اور کھلونے خریدتے تھے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی ویسا ہی ایک دن جیوں”۔
جبکہ 7 سالہ ریم کہتی ہے: “میں چاہتی ہوں کہ عید پر صرف مٹھائی اور کھلونے ہوں، میرے لیے پیسے اہم نہیں ہیں”۔
یہ بیانات ایک ایسے جيل کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہیں جس نے عید کو اس کی تمام تر تفصیلات کے ساتھ جیا ہے اور ایک وہ نسل ہے جو عید کو صرف کہانیوں کے ذریعے پہچان رہی ہے۔
حسرت: نسلوں کے درمیان ایک مشترکہ قدر
27 سالہ نوجوان خالد کا کہنا ہے “ہم دو نسلوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمیں وہ خوبصورت عیدیں بھی یاد ہیں اور اب ہم اس بالکل مختلف عید کو بھی بھگت رہے ہیں۔ اب تو حسرت اور یادیں بھی عید کا حصہ بن گئی ہیں”۔
وہ مزید کہتے ہیں کپ “جب ہم خوش ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک ادھورا پن محسوس ہوتا ہے، جیسے کوئی بہت بڑی چیز چھین لی گئی ہو”۔
مزاحمت کرنے والا حافظہ اور ممکنہ خوشی
ان تمام حالات کے باوجود 50 سالہ ام احمد اس عزم کا اظہار کرتی ہیں کہ عید کی خوشیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں: “یہ سچ ہے کہ بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں مگر ہم سادہ ترین تفصیلات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، مقصد صرف بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ہے”۔
غزہ میں آج عید کا موازنہ اس سے نہیں کیا جاتا کہ ماضی میں کیا تھا بلکہ اس سے کیا جاتا ہے کہ اس سفاکیت کے دور میں کتنا کچھ بچایا جا سکتا ہے۔ ایک پرہجوم ماضی اور سنگین حال کے درمیان یہاں کے باسی آج بھی خوشی کے معنی تلاش کر رہے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی سادہ کیوں نہ ہوں۔
