Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی اڈوں پر 55 میزائل اور ڈرون حملے

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے 55 حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں میزائلوں، خودکش ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا، جو مقبوضہ فلسطین کے شمال سے لے کر جنوبی لبنان کی گہرائی تک پھیلے ہوئے ایک بڑے میدانی ٹکراؤ کا حصہ ہیں۔

حزب اللہ نے اپنے پے در پے بیانات میں واضح کیا کہ یہ کارروائیاں لبنان اور اس کے غیور عوام کے دفاع میں کی جا رہی ہیں۔ تنظیم نے اشارہ دیا کہ نو صہیونی بستیوں پر کی جانے والی بمباری اس انتباہی سلسلے کا حصہ ہے جو اس سے قبل مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع متعدد بستیوں کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

تنظیم کے بیانات کے مطابق گذشتہ روز علی الصبح سے سہ پہر تک کیے گئے ان حملوں میں شلومی (دو بار)، یفتاح، شوميرا، کریات شمونہ، راموت نفتالی، حانیتا، نطوعہ، یرؤون اور افیفیم نامی بستیوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ نے “خودکش ڈرونز کے غول” کے ذریعے دو فضائی حملوں کا اعلان کیا جنہوں نے “یعرا” اور “متات” بیرکوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کے شمال میں واقع “برانیت” اور “زرعیت” بیرکوں پر بھی میزائل برسائے گئے۔

جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے بتایا کہ اس نے قابض اسرائیلی فوج کے دو بڑے اجتماعات کو نشانہ بنایا۔ پہلا الخیام شہر میں میزائلوں کے ذریعے اور دوسرا “مشروع الطیبہ” میں توپ خانے کے گولوں سے۔ تنظیم نے الطیبہ نامی قصبے میں ایک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے “مرکاوا” ٹینک کو تباہ کرنے اور عیترون کے علاقے “جبل الباط” میں قائم کردہ ایک نئے فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی بھی تصدیق کی۔

بیانات کے مطابق یہ حملے متعدد سرحدی قصبوں میں قابض دشمن کے ٹھکانوں تک پھیل گئے، جن میں عیترون کے جنگلات، مرکبا میں جبل وردہ، علما الشعب اور الضہیرہ کے جنوبی مضافات، عیتا الشعب میں خلہ وردہ، مارون الراس کا گرد و نواح، اور عدیسہ، مرکبا و رب الثلاثین کے علاقے شامل ہیں۔

شام کے اوقات میں حزب اللہ نے کریات شمونہ بستی پر مسلسل پانچ بار میزائلوں کی بارش کی، جس کے بعد چھٹی مرتبہ شمالی اسرائیل کی بستی نہاریہ کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کارروائیوں میں قابض اسرائیل کے متعدد فوجی اڈے اور بیرکیں بھی شامل تھیں، جن میں “کفر جلعادی” بیرک، عکا کے مشرق میں واقع “تیفن” بیس، روش بینا کے جنوب میں “فیلون” بیس، اور صفد کے قریب واقع “محفاہ الون” اور “ایئیلیت” بیسز شامل ہیں، جنہیں خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ نے انکشاف کیا کہ علما الشعب اور الضہیرہ کے درمیان واقع الرندہ کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کرنے والی ایک اسرائیلی فورس کے ساتھ ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں سے شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنا دیا گیا۔

مزید برآں راس الناقورہ کے مقام پر موجود بحری ریڈار کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ہدف کو براہ راست اور کاری ضرب لگی ہے۔

یہ تمام کارروائیاں قابض اسرائیل کی جانب سے سنہ 2026ء کے رواں ماہ 2 مارچ سے جاری مسلسل سفاکیت اور حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔ لبنانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان اسرائیلی حملوں میں اب تک 1001 افراد شہید اور 2584 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر گذشتہ کئی دہائیوں سے قبضہ جما رکھا ہے، جبکہ اکتوبرسنہ 2023ء سے نومبر سنہ 2024ء تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد سے اس نے اپنی موجودگی میں مزید توسیع کر دی ہے۔ یہ تمام واقعات ایک وسیع علاقائی تناظر کا حصہ ہیں جس میں غزہ، لبنان اور ایران سمیت شام اور یمن پر اسرائیلی غارت گری کے نتیجے میں عسکری کشیدگی عروج پر ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan