غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں جمعہ کی صبح دسیوں ہزار فلسطینیوں نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔ یہ روح پرور مناظر تباہ شدہ مساجد کے ملبے اور بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کے خیموں کے قریب کھلے میدانوں میں دیکھے گئے جہاں عید کی تکبیرات کی گونج میں ایمانی جذبہ اور قابض دشمن کی سفاکیت کے نشانات ایک ساتھ نمایاں تھے۔
نمازیوں کے بڑے اجتماعات ان عارضی مصلیٰ جات میں ہوئے جو ان مساجد کے ڈھیر پر یا ان کے پہلو میں بنائے گئے تھے جنہیں قابض اسرائیل نے اپنی جارحیت کے دوران مکمل طور پر شہید کر دیا تھا۔ انتہائی کٹھن حالات کے باوجود بلند آواز میں تکبیرات پڑھتے ہوئے فلسطینیوں نے شعائرِ عید کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن کے چہروں پر اپنے پیاروں کی جدائی اور گھروں کی تباہی کا غم صاف جھلک رہا تھا۔
رواں برس عید الفطر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب انسانی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے، محاصرہ برقرار ہے اور ہجرت و بے گھری کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ لاکھوں فلسطینی اب بھی پناہ گاہوں اور عارضی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں خوراک، پانی اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت ہے۔
ان تمام تر سختیوں کے باوجود گذشتہ سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء کی عیدوں کے مقابلے میں اس بار عید کے چند گھنٹوں کے دوران نسبتاً امن کی فضا رہی، کیونکہ گذشتہ برسوں میں عید کے ایام شدید فوجی حملوں اور بمباری کی زد میں رہے تھے جس کے باعث بہت سے علاقوں میں نمازِ عید کی ادائیگی ممکن نہیں رہی تھی۔
اس پروقار موقع پر فلسطینیوں نے اپنے ان 72 ہزار سے زائد شہداء کو یاد کیا جو آزادی کی راہ میں نثار ہو گئے، جبکہ 8 ہزار سے زائد لاپتہ افراد کی یاد بھی دلوں میں تازہ رہی جن کی تلاش اب بھی ملبے تلے جاری ہے۔ اس صورتحال نے عید کے اجتماع کو ایک غمگین رنگ دے دیا جہاں اپنوں کو کھونے کا دکھ اور زندگی کی رمق باقی رکھنے کی جدوجہد ایک دوسرے میں پیوست نظر آئی۔
نمازِ عید کے خطباء نے باہمی یکجہتی، صلہ رحمی، اتحاد اور قابض دشمن کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔
منظر نامے کا ایک متاثر کن پہلو یہ تھا کہ خاندان اپنے بچوں کو بھی جائے نماز تک لے کر آئے تھے جہاں نمازیوں نے مختصر مگر پرجوش انداز میں ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ زخموں کے باوجود عید کی خوشیاں منائیں گے، جبکہ اسی دوران مقامی اور عالمی سطح پر غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور انسانی صورتحال بہتر بنانے کے مطالبات بھی شدت سے جاری رہے۔
