Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

عید الفطر کی آمد اور فلسطین، لبنان اور ایران لہو لہو

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)ماہ رمضان المبارک کا اختتام ہو رہاہے اور عید الفطر کی آمد ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مسلمان اقوام عید الفطر کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس مقالہ کو لکھنے کا مقصد یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم عید نہ منائیں لیکن یہ ضرور یاد رکھیں کہ عید حقیقت میں ایک احساس اور جذبہ کا نام ہے جو ہمیں خدا اور اس کے بندوں سے مزید قریب ہونے کا سبق دیتی ہے۔ جس طرح ما رمضان المبارک میں مسلمان اقوام اپنے محروم بھائیوں کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح عید بھی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم عید کے موقع پر اس احساس کو زندہ رکھیں۔سادگی سے عید منانے کا مطلب یہ نہیں کہ خوشی نہ منائی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی خوشیوں میں اعتدال رکھا جائے، غیر ضروری اخراجات سے بچا جائے اور ان وسائل کو ان لوگوں تک پہنچایا جائے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔ اگر ہم اپنے کپڑوں، کھانوں اور تقریبات میں تھوڑی سی کمی کر دیں تو اس سے بچنے والی رقم کسی ضرورت مند خاندان کے لیے عید کی حقیقی خوشی بن سکتی ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ ہم نے رمضان المبارک میں اپنے بھائیوں کی محرومیوں اور مظلومیت میں کوئی کمی کرنے کی سعی کی ہے یا نہیں لیکن عید الفطر پر یہ موقع ہم سب کو اپنے ہاتھوں سے نہیں جانے دینا چاہئیے۔ عید کی اصل خوشی صرف نئے کپڑوں اور لذیذ کھانوں میں نہیں بلکہ دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں ہے۔ آئیے اس عید کو احساس، ہمدردی اور اتحاد کا پیغام بنائیں۔
ہم اپنی عید الفطر کو احساس اور ہمدردی اور اتحاد کا پیغام کیسے بنا سکتے ہیں ؟اس وقت جذبات اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف غم اور غصہ کافی نہیں بلکہ منظم، مثبت اور بااثر اقدامات ہی حقیقی فرق پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اس عید کو احساس، ہمدردی اور اتحاد کا پیغام بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اجتماعی اور عملی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی، خاص طور پر غزہ، لبنان ، یمن اور ایران کے تناظر میں۔
آج ہم شاہد ہیں کہ غزہ مسلسل جل رہاہے، لبنان میں اسرائیلی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ یمن پر بھی دھمکیوں کا بازار گرم ہے، ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی وحشتناک جارحیت جاری ہے۔ ہزاروں بے گناہ لوگ فلسطین سے لبنان ویمن اور ایران میں قتل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ایران میں سپریم لیڈر اور مسلم دنیا کے عظیم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کو امریکی و اسرائیلی دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور اب ان کے بعد ان کے ساتھیوں کو بھی جن میں علی لاریجانی کا نام سرفہرست ہے ان کو بھی دہشتگردی میں قتل کر دیا گیا ہے۔اسی طرح یہ لوگ صرف خود نہیںبلکہ اپنے اہل و عیال کے ہمراہ شہید ہو رہےہیں۔ انکا ایک ہی نعرہ ہے کہ ہم باقی نہ رہیں لیکن اسلام باقی رہے۔
غزہ میں ہمارے بھائیوںکی قربانیوں کی بے مثال تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ لبنان کے ہمارے بھائیوں نے بہت بڑی قربانی پیش کی ہے اور اب تک کر رہے ہیں۔ سب کا ہدف القدس کی آزادی اور فلسطین پر غاصب صیہونی تسلط کا خاتمہ ہے۔
جب دنیا بھر کے مسلمان عید کی خوشیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں، اسی وقت ہمارے اپنے بھائی بہن فلسطین، لبنان، یمن، عراق اور ایران میں ظلم، جنگ اور انسانی المیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں بمباری ہو رہی ہے، کہیں محاصرہ ہے، کہیں بھوک اور پیاس سے بلکتے بچے ہیں، اور کہیں پورے کے پورے خاندان مٹا دیے جا رہے ہیں۔ یہ حالات صرف جنگ نہیں بلکہ ایک دردناک انسانی المیہ اور کئی مقامات پر نسل کشی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ایسے نازک وقت میں عید کی خوشیاں منانا یقیناً ایک فطری عمل ہے، لیکن بحیثیتِ امتِ مسلمہ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری خوشیاں مکمل ہو سکتی ہیں جب ہمارے اپنے ہی بھائی بہن مصیبت میں مبتلا ہوں؟ اسلام ہمیں صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ہمیں امت کے دکھ درد کا احساس بھی سکھاتا ہے۔
ایسے حالات میں کہ اب جب عید الفطر آ پہنچی ہے ہمیں کیا ذمہ داری انجام دینی چاہئیے ؟ مہنگے کپڑوں، دعوتوں اور سجاوٹ پر خرچ کم کر کے یہ رقم متاثرہ علاقوں کے لیے امداد میں دیں۔اجتماعی طور پر سادہ عید مہم شروع کی جا سکتی ہے جس میں محلے یا تنظیمیں شامل ہوں۔آئیں ہم سب مل کر جنگ سے متاثرہ علاقوں خاص طور پر فلسطین ، ایران اور لبنان کے عوام کے لئے مہم چلائیں اور اپنی خوشیوں کو سادگی میں بدل کر دوسروں کی مدد کریں اور ان کی خوشیوں کا سامان میسر کریں۔عید الفطر کے اجتماعات میں نماز عیدین بعد اپنی دعائوں میں فلسطین و لبنان سمیت ایران کے عوام کو یاد رکھیں اور ان کی کامیابی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں۔ جہاں جہاں فلاحی ادارے موجود ہیں ان کی ذمہ داری بندی ہے کہ فلسطین و لبنان اور ایران فنڈ قائم کریں اور ان متاثرہ علاقوں کی مدد کو یقینی بنائیں اور عوام اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ہمارے علمائے کرام اور دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عید الفطر کے اجتماعات میں غزہ ، لبنان اور ایران کی جنگ کو موثر انداز میں بیان کریں۔ آج کی جنگ صرف میدان میں نہیں، بیانیے میں بھی لڑی جا رہی ہے۔غزہ اور لبنان سمیت ایران کی صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کریں۔مستند معلومات شیئر کریں، افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے اجتناب کریں۔انسانی ہمدردی کے پہلو کو نمایاں کریں، نہ کہ صرف جذباتی نعرے بازی۔امریکہ اور اسرائیل سمیت مغربی اور عربی اتحادیوں کی انسان دشمن پالیسیوں کو بیان کریں۔
یاد رکھیں اس وقت ہمیں پاکستانی معاشرے میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہماری قومی یکجہتی اور اتحاد ہے۔ دشمن نے ہمیشہ تقسیم کرو اور لڑائو کی پالیسی سے فائدہ اٹھایا ہے۔اب وقت ہے کہ ہم اس تقسیم اور لڑائی کے پودوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھیک دیں اور اتحاد کے شجر طیبہ کو مزید طاقتور کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ ایسے حالات میں سب سے بڑا نقصان تقسیم سے ہوتا ہے۔ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کے حوالے سے اختلافات کے بجائے مشترکہ انسانی پہلو کو اجاگر کریں۔مسلکی یا سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کرامت کے تصور کو مضبوط کریں۔ایران اور فلسطین سمیت لبنان و یمن جیسے خطے سب اس وقت عالمی استکباری قوتوں کی بدمعاشی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پُرامن طریقے سے یکجہتی ریلیاں، سیمینارز اور آگاہی مہمات چلائیں۔عوامی سطح پر حکومتوں اور عالمی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے قانونی اور مہذب راستے اپنائیں۔کسی بھی شخصیت یا واقعے کے حوالے سے معلومات شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ غلط یا غیر مصدقہ خبریں نہ صرف گمراہی پیدا کرتی ہیں بلکہ اصل کاز کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ ذمہ داری کے ساتھ بات کرنا ہی حقیقی شعور ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس عید کا پیغام صرف خوشی نہیں بلکہ شعور، ذمہ داری اور عملی یکجہتی ہونا چاہیے۔ اگر ہر فرد اپنی سطح پر تھوڑا سا بھی کردار ادا کرے تو یہی چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔پاکستان کے عوام ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ہم ایک بار پھر اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔ عید کو فضول خرچی، نمود و نمائش اور غیر ضروری اخراجات کا ذریعہ بنانے کے بجائے سادگی، احساس اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ منائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے فلسطینی، لبنانی، یمنی، عراقی اور ایرانی بھائیوں کے دکھ کو محسوس کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ایک ماں جو اپنے بچے کو کھونے کے غم میں ڈوبی ہے، اس کے لیے عید کا دن کیسا ہوگا؟

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan