غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور تازہ حملوں میں غزہ شہر کے مختلف حصوں میں چار فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سفاکانہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب غزہ کی پٹی کے انسانی حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق آج بروز جمعرات غزہ شہر کے شمال مشرق میں واقع حی التفاح کے علاقے میں ساحہ الشوا کے قریب نہتے شہریوں کے ایک گروہ پر قابض اسرائیل نے بمباری کی جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
ذرائع نے مزید تصدیق کی ہے کہ حی الزیتون کے مشرقی حصے میں واقع شارع کشکو پر قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو نوجوان حمزہ صیام اور محمد فرحات شہید ہو گئے۔
قابض اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ طے پانے والے سیز فائر کے معاہدے کی یہ خلاف ورزیاں ایک ایسے تسلسل کا حصہ ہیں جس کے نتیجے میں گذشتہ اکتوبر سے اب تک 677 شہری شہید اور 1813 زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ سیز فائر اس نسل کشی کی جنگ کو روکنے کے لیے عمل میں آیا تھا جس کا آغاز قابض اسرائیل نے سنہ 8 اکتوبر 2023ء کو کیا تھا اور جو دو سال تک جاری رہی۔ اس ہولناک جارحیت میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق غزہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے لگ بھگ 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
