مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے جمعرات کے روز مسلسل بیسویں دن بھی مسجد اقصیٰ کو بند رکھا اور ایران کے خلاف جنگ سے پیدا ہونے والی نام نہاد سکیورٹی صورتحال کا بہانہ بنا کر وہاں نماز کی ادائیگی پر مکمل پابندی برقرار رکھی۔
القدس گورنری کی رپورٹ کے مطابق قابض دشمن کی افواج نے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بہانے نمازیوں کو مسجد کے اندر جانے سے روک دیا ہے جبکہ قبلہ اول کے گرد و نواح اور پرانے شہر کے دروازوں پر غاصب صیہونی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کر کے شہریوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔
اوقاف القدس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی پولیس نے مسجد اقصیٰ کی بندش میں عید الفطر کے اختتام تک توسیع کا باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے جو فلسطینیوں کے مذہبی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔
القدس گورنری نے خبردار کیا ہے کہ اس طویل بندش کے سائے میں ہیکل نامی انتہا پسند صیہونی تنظیموں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے خلاف اشتعال انگیز مہم اور نفرت انگیز تقاریر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قابض انتظامیہ نے ایک وقت میں محکمہ اوقاف کے 25 سے زائد ملازمین کے مسجد میں داخلے پر بھی قدغن لگا دی ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے نمازیوں اور مرابطین کے خلاف اپنی سفاکیت میں اضافہ کرتے ہوئے الرشیدیہ سکول کے صحن تک رسائی بھی ناممکن بنا دی ہے تاہم جذبہ ایمانی سے سرشار مرابطین نے اس بندش کے خلاف احتجاجاً مسلسل نویں رات بھی مسجد کی دہلیزوں پر نماز ادا کی۔
گذشتہ منگل کی شام قابض افواج نے القدس کے مختلف محلوں میں شہریوں کو نماز تراویح ادا کرنے سے جبراً روک دیا تھا اور باب العمود و باب الساہرہ کے گرد و نواح میں پھیل کر نمازیوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا تاکہ نماز کے لیے کوئی بھی اجتماع نہ ہو سکے۔
سنہ 1967ء میں مسجد اقصیٰ پر قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب رمضان المبارک کے آخری عشرے میں قبلہ اول کے اندر نماز تراویح اور اعتکاف پر اس طرح کی ظالمانہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
مسجد اقصیٰ کی یہ مسلسل بندش ایک ایسے وقت میں برقرار ہے جب قابض اسرائیل کی فوج نے ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کے وسیع حملے کے بعد پورے مغربی کنارے میں مکمل لاک ڈاؤن اور ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
