مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شیخ رائد صلاح اپنی گرفتاری اور بعد ازاں رہائی سے قبل القدس میں جبل زیتون کے مقام پر ایک ویڈیو پیغام میں نمودار ہوئے جہاں ان کے پس منظر میں بند پڑی مسجد اقصیٰ نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے قبلہ اول کی موجودہ صورتحال کو زخموں سے چور اور خون آلود اداسی سے تعبیر کیا کیونکہ ماہ رمضان کے ابتدائی ایام سے ہی اسے مسلسل بند رکھا گیا ہے۔
شیخ رائد صلاح نے بتایا کہ مسجد کے اندر اذان اور نمازوں بشمول نماز جمعہ اور تراویح پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے باعث نمازی شدید سردی اور بارش جیسے کٹھن حالات میں مسجد کی دہلیزوں پر نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے گہرے زخموں کا ذکر کیا اور متعدد عرب و اسلامی ممالک کو درپیش بحرانوں پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں تناؤ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں وکیل خالد زبارکہ نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی ایک سپیشل فورس نے شیخ رائد صلاح کو اس وقت ان کی گاڑی سے گرفتار کیا جب وہ شہر میں افطار کی ایک دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تاہم تفتیش کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
خالد زبارکہ نے مزید بتایا کہ یہ رہائی مخصوص شرائط پر عمل میں آئی ہے جن میں سب سے اہم شرط انہیں 15 دنوں کے لیے شہر القدس سے بے دخل کرنا ہے۔ انہوں نے اس گرفتاری اور تفتیش کو غاصبانہ اور سفاکیت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق شیخ کے شہر کے دورے اور شیخ عکرمہ صبری سے عید کی ملاقات سے ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ ام الفحم سے تعلق رکھنے والے شیخ رائد صلاح نے مغربی القدس میں واقع المسکوبیہ تفتیشی مرکز میں تقریباً دو گھنٹے گزارے جہاں اپنے وکیل سے ملاقات کے بعد ان سے تفتیش کی گئی۔
واضح رہے کہ قابض اسرائیل کی انتظامیہ نے گذشتہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ اور پرانے شہر کو بند کر دیا تھا اور وہاں تراویح سمیت تمام نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
