مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی مظلوم مٹی ایک بار پھر معصوموں کے لہو سے سیراب ہو گئی۔ وہ سفر جو خوشیوں کی جستجو میں شروع ہوا تھا، غاصب اسرائیل کی سفاکیت نے اسے ابدی جدائی کے نوحے میں بدل دیا۔ مغربی کنارے کے شمال میں واقع شہر طوباس کے قریب طمون کے مقام پر قابض اسرائیل کے ایک درندہ صفت فوجی دستے نے ایک ہنستے بستے فلسطینی خاندان کی گاڑی پر گولیوں کی وہ بوچھاڑ کی جس نے عید کی خوشیوں کو سدا کے لیے سوگ میں تبدیل کر دیا۔
عید کی خوشیاں اور قابض اسرائیل کی سفاکیت
رمضان المبارک کی وہ پرنور رات، جب فضاؤں میں سحر و افطار کی برکتیں رقصاں تھیں، 37 سالہ علی بنی عودہ اپنی شریک حیات 35 سالہ وعد اور اپنے چار لخت جگروں کے ہمراہ طمون سے نابلس کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ گاڑی میں بچوں کے قہقہے گونج رہے تھے، وہ ایک دوسرے کو عید کے نئے کپڑوں کے خواب سنا رہے تھے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ غاصب صہیونی دشمن کی گھات میں لگی ٹولیاں ان معصوموں کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
واپسی کے سفر میں جب گھر کی دہلیز قریب تھی قابض اسرائیل کی ایک وحشی فوجی یونٹ نے اس نہتے خاندان کا راستہ روکا اور کسی وارننگ کے بغیر براہ راست گاڑی پر موت کی بارش کر دی۔ چند لمحوں میں گاڑی کا لوہا گولیوں سے چھلنی ہو گیا اور بچوں کے قہقہے دردناک چیخوں میں بدل گئے۔ ممتا کی ماری وعد نے اپنی آخری سانسوں تک اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں چھپا کر گولیوں سے بچانے کی کوشش کی، مگر صیہونی درندگی نے ممتا کے اس حصار کو بھی چیر ڈالا۔
شہادتوں کا لہو رنگ منظر
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس لرزہ خیز قتل عام میں خاندان کے سربراہ علی بنی عودہ، ان کے دو معصوم بیٹے 7 سالہ عثمان اور 5 سالہ محمد موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے۔ زخمی ماں وعد جس کا وجود گولیوں سے چھلنی تھا، ہسپتال پہنچ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ گاڑی میں اب صرف دو بچے، 11 سالہ خالد اور 8 سالہ مصطفیٰ باقی رہ گئے تھے، جن کے معصوم چہرے اور سر گولیوں کے ٹکڑوں سے لہولہان تھے۔
عینی شاہدین کی آنکھیں آج بھی اشکبار ہیں جنہوں نے بتایا کہ قابض فوج نے انتہائی قریب سے 50 سے زائد گولیاں برسا کر ایک پورے خاندان کی نسل کشی کی کوشش کی۔ گاڑی اب ایک لوہے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی ایک بولتی ہوئی دستاویز بن چکی ہے۔
زندہ بچ جانے والے معصوم کی دہائی
خالد علی بنی عودہ، جو اب اس اجڑے ہوئے گھر کا سب سے بڑا چشم و چراغ ہے، اپنی بپتا سناتے ہوئے سسکیاں بھرنے لگا۔ اس نے بتایا: “ہم نابلس سے عید کے رنگ برنگے کپڑے خرید کر خوشی خوشی واپس آ رہے تھے کہ اچانک ہر طرف سے گولیاں برسنے لگیں۔ میں نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے اسے نیچے چھپایا، مگر ہمیں نہیں معلوم تھا کہ موت کہاں سے آ رہی ہے۔”
خالد نے وہ ہولناک انکشاف بھی کیا جو انسانیت کے علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ ہے؛ جب اس کا باپ آخری ہچکیاں لے رہا تھا، تو ایک قابض اسرائیلی فوجی نے گاڑی کے قریب آ کر انتہائی تکبر اور نفرت سے کہا: “ہم نے کتوں کو مار دیا ہے۔” یہ الفاظ اس صیہونی ذہنیت کا عکاس ہیں جو فلسطینیوں کو انسان ماننے سے ہی انکاری ہے۔
فلسطینی کاز اور عالمی خاموشی
یہ قتل عام محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبے کا تسلسل ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ غزہ کی پٹی پر ڈھائی سال سے جاری وحشیانہ جنگ کے بعد اب مغربی کنارے میں بھی معصوموں کا خون ارزاں کر دیا گیا ہے۔ اہل طمون آج اپنے چار پیاروں کو منوں مٹی تلے دفنا رہے ہیں، مگر ان کے عزم میں ذرہ برابر لغزش نہیں آئی۔
عید کے وہ کپڑے جو خوشیوں کی علامت تھے، اب ان معصوموں کے کفن بن چکے ہیں۔ یہ لہو پکار پکار کر عالمی ضمیر سے سوال کر رہا ہے کہ آخر کب تک بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی اجازت دی جائے گی؟
