طوباس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے اتوار کی علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر طوباس کے جنوب میں واقع قصبے طمون میں ایک گاڑی پر اندھادھند فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے چار فلسطینیوں کو بیدردی سے شہید کر دیا، جن میں والدین اور ان کے دو معصوم بچے شامل ہیں۔ مقامی ذرائع نے اس انسانیت سوز واقعے کو ایک ہولناک قتل عام اور کھلے عام سفاکیت قرار دیا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس بزدلانہ کارروائی میں شہید ہونے والوں میں 37 سالہ علی خالد صایل بنی عودہ شامل ہیں جن کے سر، چہرے، سینے اور بائیں ہاتھ میں گولیاں ماری گئیں۔ ان کے ساتھ ان کی 35 سالہ اہلیہ وعد عثمان عقل بنی عودہ بھی شہید ہوئیں جنہیں چہرے اور سر پر گولیاں لگیں۔ اس سفاکیت کا نشانہ بننے والے ان کے دو معصوم بیٹے محمد (5 سال) اور عثمان (7 سال) بھی اپنے والدین کے ہمراہ جام شہادت نوش کر گئے، جن کے معصوم چہروں اور سروں کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا۔
صحافتی ذرائع نے بتایا ہے کہ شہید ہونے والے بچوں میں سے ایک بچہ خصوصی ضروریات کا حامل (معذور) تھا۔
ہلال احمر فلسطین نے تصدیق کی ہے کہ ان کے عملے نے طمون قصبے میں قابض فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی گاڑی سے چار شہداء کی لاشیں وصول کی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فوج کے خصوصی دستوں نے پہلے قصبے میں دراندازی کی، جس کے بعد شبلی اور تیاسیر نامی چیک پوسٹوں سے مزید فوجی کمک وہاں پہنچی اور اس خاندان کی گاڑی پر گولیاں برسا دیں، جس کے نتیجے میں پورا خاندان لقمہ اجل بن گیا۔
ہلال احمر نے مزید بتایا کہ قابض فوج نے زخمیوں کی موجودگی کی اطلاع کے باوجود امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روکے رکھا۔ بعد ازاں قابض فوج نے وہاں سے دو بچے ہلال احمر کے حوالے کیے، جن کے ابتدائی معائنے سے معلوم ہوا کہ وہ جسمانی طور پر زخمی نہیں تھے، تاہم وہ اپنے والدین اور بھائیوں کی شہادت کا صدمہ جھیل رہے ہیں۔
ایک اور واقعے میں قابض فوج نے طمون ہی میں محمود حسن بنی عودہ اور ان کے بیٹے حسن کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں اغوا کر لیا۔
آج علی الصبح مقبوضہ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں بھی قابض دشمن کی غارت گری جاری رہی۔ قابض فوج نے جنین گورنری کے قصبوں قباطیہ اور الیامون میں چھاپے مارے، گھروں کی تلاشی لی اور توڑ پھوڑ کی۔ الیامون میں ایک نوجوان کو حراست میں لے کر وہیں فیلڈ انٹرویو کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
نابلس کے مشرق میں واقع قصبے بیت فوریک میں بھی قابض فوج نے گھس کر صوتی بموں اور زہریلی آنسو گیس کا استعمال کیا۔ سلفیت میں قابض فوج نے واد الشاعر کے علاقے میں چیک پوسٹ قائم کی اور ایک نئی صیہونی بستی کے قریب روشنی والے بم (فلئیرز) فائر کیے۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں صیہونی آباد کار مسلسل اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہے ہیں۔
مغربی کنارے کے جنوب میں الخلیل کے مغربی قصبے ترقومیا میں قابض فوج کی فائرنگ سے ایک 36 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا۔ سکیورٹی اور طبی ذرائع کے مطابق بیت اولا سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو نسل پرستانہ علیحدگی کی دیوار کے قریب ٹانگ میں گولی ماری گئی، جسے خلیل کے ہلال احمر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
القدس گورنری کے شمال مغرب میں واقع بیت اکسا سکیورٹی چیک پوسٹ پر بھی قابض فوج نے 43 سالہ احمد خلیل صادر صالح پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا، جبکہ ان کے 20 سالہ بیٹے خلیل کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
