مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) درجنوں فلسطینی نوجوانوں نے قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کو نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے بند رکھے جانے کے خلاف احتجاجاً مسجد کے قریب ترین مقامات پر نماز عشا اور نماز تراویح ادا کی۔
القدس کے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ مقبوضہ القدس میں درجنوں فلسطینیوں کو جب مسجد اقصیٰ تک پہنچنے اور وہاں نماز ادا کرنے سے جبراً روک دیا گیا تو انہوں نے شہر کے تاریخی دروازے باب الساہرہ کے قریب صفیں درست کیں اور وہیں نماز ادا کی۔
قابض اسرائیلی افواج ایران کے ساتھ جاری جنگ سے وابستہ نام نہاد سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر مسلسل بارہویں روز بھی قبلہ اول کی بندش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قابض اسرائیلی حکام گذشتہ 28 فروری سے ایران کے خلاف جاری قابض اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ سفاکیت کے تناظر میں نام نہاد ہنگامی حالت کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس ظالمانہ فیصلے کے ذریعے اہل القدس اور دیگر فلسطینیوں کو ان بابرکت ایام میں مسجد اقصیٰ میں اپنی عبادات اور شعائر کی ادائیگی سے محروم کر دیا گیا ہے جو کہ ایک انتہائی خطرناک اور غیر معمولی مثال ہے۔
سنہ 1967ء میں القدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ جب نمازیوں کو پہلی بار رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران مسجد اقصیٰ کے اندر نماز تراویح اور اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ قابض حکام نے رمضان المبارک کے آغاز سے ہی اور ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ چھڑنے سے پہلے ہی سکیورٹی اقدامات کے نام پر گھیرا تنگ کر دیا تھا۔ اس دوران مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں اور ان کی ایک بڑی تعداد کو القدس پہنچنے اور مسجد اقصیٰ میں سجدہ ریزی کرنے سے محروم رکھا گیا۔
