تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دنیا بھر میں رمضان المبار ک کا آخری جمعہ قبلہ اول بیت المقد س یعنی القدس شریف کے نام سے منسوب ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس دن کو یوم القدس مناتے ہیں۔دنیا بھر میں ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو منایا جانے والا یوم القدس صرف ایک علامتی دن نہیںہے بلکہ ایک عالمی بیداری، مزاحمت اور مظلوموں سے یکجہتی کی علامت بن چکا ہے۔ اس دن کا آغازایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ کے حکم پر شروع ہوا تھا۔ امام خمینی نے رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس ایک دن کو فلسطین کی آزادی اور قدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو کر ہم آواز ہو جائیں اور دنیا کو پیغام دیں کہ فلسطین کی آزادی خواہ دنیا بھر میں متحد ہیں۔ امام خمینی ؒ کی اس اپیل پر آج بھی دنیا بھر میں بالخصوص فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں بھی رمضان کے آخری جمعہ یوم القدس منایا جاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لئے اتحاد کی علامت بن چکا ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے ایک مرکز ی دن کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان اور آزادی پسند افراد فلسطین کے مسئلے کو زندہ رکھیں اور مقبوضہ فلسطین و القدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں۔
امام خمینی نے اپنے فرامین میں لوگوں کو تاکید کی کہ یوم القدس ایک عام دن نہیں بلکہ یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے ہے۔انہوںنے اس دن کو ظالم طاقتوں کی نابودی کا دن قرار دیا۔ انہوںنے یوم القدس کو فلسطین کی آزادی کا دن قرار دیااور کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے یوم القدس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسوں، ریلیوں اور کانفرنسوں کی صورت میں منایا جاتا رہا ہے، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد اس دن کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس تاریخ کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف شروع ہونے والی بڑی دفاعی کاروائی جسے طوفان الاقصیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے پورے خطے کی سیاست کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ نے دنیا کو ایک مرتبہ پھر فلسطین کے مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا۔7 اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ واضح کر دیا کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ غزہ میں جاری جنگ، ہزاروں شہریوں کی شہادت اور انسانی بحران نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوم القدس اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ یہ دن صرف فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ظلم کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
حالیہ رمضان المبارک میں آنے والا یوم القدس جو کہ 23رمضان المبارک کو دنیا بھر میں منایا جا ئے گا۔ ایسے حالات میں آئے گا کہ جب دنیا کی شیطانی قوتیں امریکہ و اسرائیل اور مغربی دنیا نےفلسطین اور لبنان میں نسل کشی کے بعد اب ایران کا رخ کر رکھا ہے۔ ایران خطے میں گریٹر اسرائیل کے راستے کا ایک مضبوط پتھر اور رکاوٹ ہے جسے امریکہ و اسرائیل اور ان کے حواری گرانا چاہتے ہیں۔ اگر آج ایران کو شکست ہوئی تو پھر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فلسطین پر اسرائیل کا مکمل قبضہ آسان ہو جائے گا اور ساتھ ساتھ خطے میں دیگر ممالک میں بھی گریٹر اسرائیل کی سرحدیں کھینچ دی جائیں گی۔
یوم القدس کا اصل پیغام مزاحمت، استقامت اور عوامی بیداری ہے۔ فلسطینی عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جس صبر اور حوصلے کے ساتھ اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد جاری رکھی ہے، وہ دنیا کے مظلوم عوام کے لئے ایک مثال بن چکی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام سمیت لبنان کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود آزادی کی جدوجہد کو زندہ رکھا جا سکتا ہے۔آج غزہ وفلسطین سمیت لبنان اور یمن کے عوام نے القدس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ حال ہی میں ان قربانیوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اوران کے رفقاء اور اہل و عیال بھی بھی اس راستے میں جام شہادت نوش کر لیا ہے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوامی شعور اور عالمی رائے عامہ میں بھی طے ہوتی ہے۔ 7 اکتوبر کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ یورپ، امریکہ، ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ یہ عالمی بیداری اس بات کا ثبوت ہے کہ یوم القدس کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔عوام کا کردار اس جدوجہد میں انتہائی اہم ہے۔ حکومتوں کی پالیسیوں کے باوجود عوامی دباؤ اکثر بین الاقوامی سیاست کا رخ بدل دیتا ہے۔ اسی لئے یوم القدس کو منانے کا مقصد صرف احتجاج نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، نئی نسل کو مسئلہ فلسطین سے آگاہ کرنا اور عالمی ضمیر کو بیدار رکھنا بھی ہے۔ جب دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد فلسطین کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں تو یہ پیغام واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ حق کی جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔یہ بات ہمارے تمام شہداء نے تکرار کی ہے کہ حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔آج یوم القدس حق کی آواز ہے جو گونج رہی ہے اور دنیا کے با ضمیر انسانوں کو بیدار کرنے کا کام کر رہی ہے۔ اگر چہ آج ہمارے درمیان امام خمینی اور امام خامنہ ای کی شخصیات موجود نہیں ہیں لیکن ان کے افکار موجو دہیں۔ ان کا راستہ ہمارے لئے واضح ہے۔ اگرا ٓج اس راستے میں اسماعیل ہانیہ ، یحیٰ سنوار، محمد ضیف اور حسن نصر اللہ سمیت ہاشم صفی الدین اور دیگر اہم رہنمائوںنےاپنی جان قربان کر دی ہے لیکن پھر بھی راستہ وہی ہے اور ہدف بھی واضح اور دقیق ہے کہ اس خون کی برکت سے اسرائیل کی نابودی ۔یوم القدس حقیقت میں شہدائے اسلام کے خون کا تسلسل ہے ۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں یوم القدس کی اہمیت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ آج یوم القدس صرف ایک مذہبی یا سیاسی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی بیداری کا دن بن چکا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر جاری ظلم کے خلاف خاموش رہنا دراصل ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ آج جب دنیا ایک نئے سیاسی دور سے گزر رہی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، ایسے میں یوم القدس کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہے: ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلوموں کے ساتھ یکجہتی اور انصاف کے لئے اجتماعی جدوجہد جاری رکھی جائے یہی یوم القدس اور امام خمینی کا عالمگیر پیغام ہے۔پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ممالک میں یوم القدس کی تقریبات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔پاکستان میں یہ دن تمام شہروں میں بھرپور مذہبی عقیدت اور جذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کےغیور عوام فلسطین اور مزاحمت کے ساتھ ہیں۔