غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اپنے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مسلسل گیارہویں روز تالہ بندی اور ماہِ رمضان کے دوران نمازِ تراویح اور اعتکاف پر پابندی ایک ایسا خطرناک اور سنگین تاریخی واقعہ ہے جس کی مثال سنہ 1967ء کے بعد سے اب تک نہیں ملتی۔
تحریک نے ایک صحافتی بیان میں اس امر پر زور دیا کہ یہ جابرانہ اقدام عبادت کی آزادی پر کھلا حملہ اور اسلامی مقدسات کے خلاف اشتعال انگیز جارحیت ہے۔
حماس نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امتِ مسلمہ سے اپیل کی ہے کہ وہ قبلہ اول کے تحفظ اور دفاع کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئے اور مسجد کے خلاف قابض اسرائیل کے جاری جرائم کو رکوائے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کی بندش قابض دشمن کے مخصوص ایجنڈے کے تحت من گھڑت اور واہیات بہانوں کی آڑ میں کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب نام نہاد صہیونی انتہا پسند “ہیکل” تنظیمیں مسجد کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مہم میں تیزی لا رہی ہیں۔
تحریک نے مزید کہا کہ یہ جبری تالہ بندی قابض اسرائیل کے ان خطرناک عزائم کو بے نقاب کرتی ہے جن کا مقصد مسجد اقصیٰ کی موجودہ مذہبی، تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے، تاکہ اس کے اسلامی شعائر کو مٹا کر وہاں زمانی اور مکانی تقسیم مسلط کی جا سکے۔
بیان میں اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا کہ یہ اقدامات ان انتہا پسند صہیونی تنظیموں کی تحرکات کے ہم آہنگ ہیں جو مسجد کی بندش کو برقرار رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور مسجد کے صحنوں میں تلمودی رسومات کی ادائیگی کی کوششیں کر رہی ہیں۔
حماس نے ایک بار پھر اپنے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ کے کسی بھی حصے پر قابض اسرائیل کا کوئی حق، حاکمیت یا قانونی جواز نہیں ہے اور یہ مسجد صرف اور صرف مسلمانوں کا خالص وقف ہے۔
آخر میں حماس نے عرب اور اسلامی ممالک کی حکومتوں، عوام اور تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ اور اسلامی مقدسات کے خلاف قابض دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں اور القدس کے باسیوں اور وہاں پہرہ دینے والے مرابطین کی ثابت قدمی کی حمایت کریں۔
