غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کی وحشیانہ جنگ کے آغاز سے اب تک جام شہادت نوش کرنے والے صحافیوں کی کل تعداد 261 تک پہنچ گئی ہے۔ شہادتوں کے اس سلسلے میں تازہ ترین اضافہ ریڈیو قطر کی نامہ نگار صحافیہ آمال محمد شمالی کی شہادت کے بعد ہوا ہے۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے قابض اسرائیل کی طرف سے فلسطینی صحافیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے اور ان کی سفاکیت پر مبنی ٹارگٹ کلنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ میڈیا آفس نے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور عرب جرنلسٹس یونین سمیت دنیا بھر کی تمام صحافتی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف ڈھائے جانے والے ان منظم جرائم کے خلاف آواز اٹھائیں اور ان کی بھرپور مذمت کریں۔
سرکاری میڈیا آفس نے ان ہولناک اور وحشیانہ جرائم کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکہ کی انتظامیہ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے اس سنگین جرم میں شریک ممالک جیسے برطانیہ اور جرمنی اور فرانس پر بھی عائد کی ہے۔
سرکاری میڈیا آفس نے عالمی برادری اور صحافت و میڈیا سے متعلق تمام بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل کے جرائم کی مذمت کریں اور اسے ان مسلسل مظالم سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ مزید برآں بین الاقوامی عدالتوں میں ان جرائم پر قابض اسرائیل کا تعاقب کیا جائے اور صہیونی ریاست کے جنگی مجرموں کو کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم ان عالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نسل کشی کے جرم کو رکوانے اور غزہ کی پٹی میں موجود صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قابض اسرائیل پر سنجیدہ اور موثر دباؤ ڈالیں تاکہ سچائی کی آواز کو دبانے کے لیے کیے جانے والے ان قتل و غارت کے واقعات کو بند کیا جا سکے۔
