نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والے ایک رائے عامہ کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت ایران پر حملوں کی مخالف ہے اور وہ تہران کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی۔
’پی بی ایس نیوز‘، این پی آر اور میریسٹ کالج کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 56 فیصد امریکی ایران پر حملوں کے خلاف ہیں جبکہ 44 فیصد ان کی حمایت کرتے ہیں۔
نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ 54 فیصد امریکی ایک طرف امریکہ اور قابض اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے طریقے سے اتفاق نہیں کرتے، جبکہ صرف 36 فیصد نے ان کی ایران پالیسیوں کی تائید کی۔
سنہ 28 فروری سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ سکیورٹی حکام سمیت سینکڑوں ایرانی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ تہران کی جانب سے تل ابیب پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی حملے کیے جا رہے ہیں۔
ایران ان میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خلیجی ممالک، عراق اور اردن میں ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ امریکی مفادات قرار دیتا ہے، تاہم ان میں سے بعض حملوں میں شہری ہلاک و زخمی ہوئے اور شہری املاک کو نقصان پہنچا، جس کی متاثرہ عرب ممالک نے مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
