Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت چھٹے روز میں داخل، حملوں میں شدت

تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران اور دوسری جانب امریکہ و قابض اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے۔ فضائی اور میزائل حملوں میں بیک وقت اضافے کے ساتھ ساتھ کارروائیوں کا دائرہ کار اب متعدد ایرانی شہروں، قابض اسرائیلی علاقوں اور تنازع سے براہ راست جڑے علاقائی فریقین تک پھیل چکا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی دارالحکومت تہران دھماکوں سے لرز اٹھا، جبکہ قابض اسرائیلی فوج نے تہران میں ایرانی حکومت کے نام نہاد بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دارالحکومت کے مغرب میں واقع شہر کرج میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

ایران میں جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر تباہی

ایران کے صوبہ ہمدان کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مغربی ایران میں قابض اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں تین افراد شہید اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی فوج نے ہمدان کی فضائی حدود میں قابض دشمن کا ایک ہرمیس ڈرون طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے محکمہ ایمرجنسی کے سربراہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 29 صوبوں اور 172 شہروں کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ایرانی ہلال احمرنے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں 105 سول تنصیبات اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا جن میں 14 طبی مراکز بھی شامل ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 174 شہروں کے 636 مقامات پر 1332 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران صوبہ لرستان پر امریکہ اور قابض اسرائیل نے 66 فضائی غارت گری کی، جو ان حملوں کی شدت اور جغرافیائی پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی جواب اور قابض اسرائیل کے اندرونی علاقوں پر حملے

جارحیت کے جواب میں ایرانی افواج نے قابض اسرائیل کے زیر تسلط علاقوں پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی پے در پے لہروں سے بمباری جاری رکھی۔

قابض اسرائیل کی وزارت صحت نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 1473 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے 199 زخمی گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہسپتال لائے گئے۔

ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے قابض اسرائیل کی رامات ڈیوڈ بیس پر موجود ایندھن کے ذخائر کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب قابض اسرائیل کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے میزائلوں اور ڈرونز کے ممکنہ حملے کے پیش نظر بالائی جلیل اور وادی عربہ میں خطرے کے سائرن بجائے۔

میدانی طور پر ایرانی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء نے عراقی کردستان میں موجود مخالف کرد گروہوں کے مراکز کو تین میزائلوں سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت ان امریکی میڈیا رپورٹس کے درمیان ہوئی ہے جن میں ایران کے شمال مغرب میں کرد ملیشیاؤں کے زمینی حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم تہران نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایکسپیوس ویب سائٹ نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں کو موساد اور امریکی انٹیلی جنس کی حمایت حاصل ہے تاکہ ایران کے اندر مخصوص علاقوں پر قبضہ کر کے نظام کو چیلنج کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق مسعود بارزانی اور بافل طالبانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطے کے دوران ایران پر کسی بھی زمینی حملے میں شامل ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

لبنانی محاذ پر قابض اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی لبنان کے قصبوں پر بمباری جاری رکھی۔ قابض فوج نے مزارع شبعا میں عسکری جارحیت کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے مکینوں کو دریائے لیطانی کے شمال میں جانے کا حکم دیا ہے اور انتباہ کا دائرہ صور اور بنت جبیل تک بڑھا دیا ہے۔ جنوبی شام میں عینی شاہدین نے درعا کے دیہی علاقے انخل میں ایک ڈرون گرنے کی اطلاع دی ہے جسے اسرائیلی طیارے نے فضا میں نشانہ بنایا تھا۔

بحری کشیدگی اور علاقائی اثرات

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی پانیوں میں بھارتی بحریہ کے مہمان کے طور پر موجود ایرانی بحری جہاز دینا کو غرق کر دیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ یہ حملہ ایرانی ساحلوں سے دو ہزار میل دور کیا گیا جس پر امریکہ کو پشیمانی ہو گی۔

دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے نائب کمانڈر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران اپنے اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج بین الاقوامی قوانین کے مطابق بحری جہازوں کے ساتھ معاملہ کر رہی ہیں اور بھیس بدل کر آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کا مقابلہ کیا جائے گا۔

سلطنت عمان میں عمان آئل مارکیٹنگ کمپنی نے اپنے ایک ایندھن کے ٹینک میں حادثے کی اطلاع دی ہے جس میں ابتدائی طور پر معمولی مالی نقصان ہوا ہے اور احتیاطی طور پر وہاں کام روک دیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں سیاسی تقسیم

سیاسی محاذ پر امریکی سینیٹ نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد کانگریس کی اجازت کے بغیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ قرارداد کے خلاف 53 اور حق میں 47 ووٹ آئے، جو جنگ کے انتظام اور قانونی حدود کے حوالے سے امریکہ کے اندرونی اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan