مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے ہنگامی حالت اور خطے میں جاری مسلسل جارحیت کا بہانہ بنا کر قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی تالا بندی مسلسل چھٹے روز بھی جاری رکھی۔ اہل قدس اور مبصرین نے اس ظالمانہ اقدام کو ایک مکمل مذہبی جنگ قرار دیا ہے جس کا مقصد مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کرنا اور عبادت کی آزادی پر قدغن لگانا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے نہ صرف نمازیوں کو ان کی مسجد تک پہنچنے سے روکا اور اس ماہ مبارک میں انہیں نماز عشا اور تراویح کی ادائیگی سے محروم رکھا بلکہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ اقدامات مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب تضاد ہے جسے وہ قابض اسرائیل فروغ دے رہا ہے جو اصل حق داروں کو ان کے اپنے مقدس مقامات میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ قابض دشمن علاقائی صورتحال اور ایران پر ہونے والی مبینہ اسرائیلی امریکی جارحیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو مرابطین سے خالی کرانے کے اپنے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے تاکہ وہاں آباد کاری اور یہودیانے کے وسیع منصوبوں کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل تالا بندی کو عبادت کی آزادی پر ایک بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات ہنگامی حالات کا سہارا لے کر مسجد پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور طاقت کے بل پر نیا واقعاتی نقشہ مسلط کرنے کی اسرائیلی سازشوں کا حصہ ہیں۔
حماس نے قابض اسرائیل کے رہنماؤں کو ان پالیسیوں کے نتائج سے باخبر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مرابطین کے ارادے کبھی نہیں ٹوٹیں گے اور اسرائیلی جتھوں کے دھاووں کے لیے مسجد کو خالی کرانے کی تمام کوششیں فلسطینی عوام کی استقامت کے سامنے پاش پاش ہو جائیں گی۔
قابض اسرائیل ایک مذہبی جنگ چھیڑ رہا ہے
اسی حوالے سے تحریک حماس کے رہنما ماجد ابو قطیش نے زور دے کر کہا ہے کہ القدس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک ایسی مذہبی جنگ ہے جو مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات اور ان کے جذبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ منظم پالیسی مغربی کنارہ کی تمام گورنریوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے، داخلی راستوں کی ناکہ بندی اور چیک پوسٹوں کی بندش کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے تاکہ نمازیوں کو القدس پہنچنے سے روکا جا سکے۔
ماجد ابو قطیش نے مزید کہا کہ یہ دھوکے باز قابض اسرائیل مکروہ جال بن رہا ہے اور حقائق کو مسخ کر کے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں وہ اس کے اصل وارثوں پر حملہ آور ہے اور انہیں ان کے بنیادی انسانی و مذہبی حقوق سے محروم کر رہا ہے۔
نفیر عام اور سفر القدس کی پکار
قابض دشمن کی اس درندگی کے سامنے القدس کی مقامی تنظیموں، اسلامی اور قومی قوتوں کی جانب سے فلسطینی عوام کو ہر جگہ سے قدس پہنچنے اور مسجد اقصیٰ کی طرف رخت سفر باندھنے کی پرزور اپیلیں کی گئی ہیں۔
ان پکار میں کہا گیا ہے کہ القدس کی جانب کوچ کرنا مسجد اقصیٰ کا محاصرہ توڑنے اور اسے قابض دشمن کے مذموم عزائم کے سامنے تنہا نہ چھوڑنے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان اپیلوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسجد کے دروازوں اور پرانے شہر کی گلیوں میں قابض اسرائیل کے اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔
ساتھ ہی عرب اور مسلم امہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قبلہ اول اور تیسرے حرم شریف کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں۔
