Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

خامنہ ای کا خدا زندہ ہے

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) میں آج یہ تحریر اشک بار آنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح کے الفاظ کا چنائو کروں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری دنیا اجڑ چکی ہے۔ زندگی جینے کا مزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ ایک کے بعد ایک شہادت جس میں شہید اسماعیل ہانیہ ہوں، شہید یحٰی سنوار ہوں ، شہید حسن نصر اللہ ہوں اور شہید ہاشم صفی الدین کے ساتھ ابو عبیدہ اور ابو حمزہ جیسے دیگر درجنوں سیکڑوں شہیدوں کی شہادت گذشتہ ڈھائی سال میں ہو چکی ہے۔ اور اب ان تمام شہیدوں کے امام یعنی امام شہیدان حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو چکے ہیں۔ دل اور دماغ دونوں ہی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں لیکن یہ ایک کڑوی اور تلخ حقیت ہے جسے قبول کرنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای 86سال کی عمر میں شہید ہوئے، انہوںنے پوری زندگی اسلام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں باہمی اتحاد اور تعاون کو فروغ دینے کی بیش بہا کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ جب ان کے دفتر پر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو وہ اس وقت بھی اپنے دفتری کاموں میں مصروف تھے۔ وہ زمین پر ولی اللہ تھے۔وہ ہمیشہ شہادت کے طلبگار تھے۔ وہ صرف ایران کے رہنما یا رہبر نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے اور ساتھ ساتھ دنیا بھر کےان تمام حریت پسندوں کے آئیڈیل تھے جو دنیا میں ظلم کے خاتمہ کی جدوجہد میں کسی نہ کسی طرح شامل ہیں۔ وہ مظلوموں کی امیدوں کا محور تھے۔وہ فلسطین کی آزادی کے علمبردار تھے۔ انہوںنے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ چاہے وہ زندہ ہو ں یا نہ ہوں آپ لوگ قدس کو آزاد دیکھیں گے اور قدس میں نماز ادا کریں گے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا درد ہمیشہ ہمارے دل میں رہے گا۔ دنیا میں آنے والی نسلیں ہمیشہ آیت اللہ خامنہ ای کی سیرت سے درس حاصل کریں گی۔ لیکن یہ فراق ہم جیسوں سے قابل برداشت نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ان کے عاشق ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہیں ۔لیکن یہ کیفیت ہمیں کسی مایوسی کی طرف نہ لے جائے ۔ خبردار ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ آیت اللہ خامنہ ای دنیا کے بہترین اور شریف النفس انسان تھے جس کو دنیا کے بد ترین او ذلیل النفس ٹرمپ نے قتل کیا ۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے سنہ 61ہجری کی کربلا میں اس وقت دنیا کا بہترین اور شریف النفس انسان امام حسین (ع) دنیا ے بد ترین اور ذلیل النفس یزید اور اس کے حواریوں کے نرغہ میں قتل ہوا تھا۔یہی امام خامنہ ای کے شایان شان ہے کہ امام حسین (ع) کی طرح دور حاضر کی کربلا میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ شہادت پائیں اور اللہ نے انہیں یہ اعزاز عطا کیا ہے۔
جب غم سینہ پھاڑ کر نکلتا ہے تو آنکھوں سے بے تحاشہ اشک بھی نکل آتے ہیں ، یہ درد آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے لیکن اس درد میں جو بات ہمیں سہارا دیتی ہے وہ یہ ہے کہ جنگ احد میں جب کفار ومشرکین نے پیغمبر اکرم (ص) کے بارے میں جھوٹی خبر پھیلائی تھی تو قرآن مجید میں سورۃ آل عمران آیت 144میں اللہ نے فرمایاحضرت) محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں، کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں، تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر رسول بھی چلے جائیں تو رسول کا خدا تو زندہ ہے۔ آج ہم امام خامنہ ای کی شہادت پر سوگوار تو ہیں اور غمزدہ بھی ہیںلیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ جس خدا نے خامنہ ای کو خامنہ ای بنایا یعنی خامنہ ای کا خدا آج بھی زندہ ہے ، باقی ہے، دین اسلام باقی ہے، معرکہ حق و باطل باقی ہے۔ جب تل معرکہ حق و باطل باقی ہے تو ہم بھی باقی ہیں۔پس یہ جملہ کہ جس میں ہم کہتے ہیں کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے یقینی طور پر دنیا کے مظلوموں کو ایک ڈھارس اور ڈبر بھی دیتا ہے اور یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے کام کو جاری رکھیں۔مشن سے کوتاہی نہ کریں، سستی نہ کریں، آپس میں اتحاد کوقائم رکھیں، دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں جیسے ہمارے امام خامنہ ای نے کیا ہے۔
یقین رکھیں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے، یہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک یقین ہے۔ یہ اعلان ہے کہ حق کا رب زندہ ہے، عدل کا رب زندہ ہے، مظلوموں کا سہارا زندہ ہے۔ جب دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے اسلحہ خانوں اور میڈیا کی یلغار پر غرور کرتی ہیں، تب اہلِ ایمان یہ کہتے ہیں: خدا زندہ ہے اور جب خدا زندہ ہے تو امید بھی زندہ ہے، فتح بھی زندہ ہے، اور کامیابی بھی یقینی ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی جدوجہد کا مرکز یہی یقین ہے کہ طاقت کا سرچشمہ ٹینک اور طیارے نہیں بلکہ ایمان، صبر اور استقامت ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی باطل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا، اسی لمحے اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ فرعونوں کی سلطنتیں ہوں یا جدید استعمار کی قوتیں سب کو وقت نے مٹا دیا، کیونکہ خدا کا قانون اٹل ہے: ظلم باقی نہیں رہتا۔
آج اگرامریکہ اورغاصب صیہونی ریاست اسرائیل اپنی عسکری طاقت پر نازاں ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ طاقت کا غرور سب سے بڑی کمزوری ہوتا ہے۔ جو قومیں انصاف کو پامال کرتی ہیں، معصوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتی ہیں اور اقوامِ عالم کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ تاریخ کے اوراق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے باوجود اخلاقی شکست سب سے بڑی شکست ہوتی ہے۔ حق کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا ۔
خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کی مائیں اکیلی نہیں، غزہ کے بچے بے سہارا نہیں ہیں اور حریت کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔ ہر آنسو جو مظلوم کی آنکھ سے گرتا ہے، وہ خدا کی عدالت میں گواہی بنتا ہے۔ اور خدا کی عدالت میں دیر ہو سکتی ہے، اندھیر نہیں۔
یہ یقین ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے اور امید ایمان کی روح ہے۔ جب اہلِ حق استقامت دکھاتے ہیں تو دشمن کی صفوں میں خوف اترتا ہے۔ آج دنیا بھر میں بیداری کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ باطل کے بیانیے کمزور ہو رہے ہیں اور حق کی آواز مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جب طاقتور سمجھنے والے کمزور ہو رہے ہیں اور مظلوم سمجھے جانے والے تاریخ کا رخ موڑ رہے ہیں۔ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سحر ضرور طلوع ہوتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی بنیاد جبر اور استحصال پر ہے، اور جبر کی بنیادیں ہمیشہ کمزور ہوتی ہیں۔ ان کی ناکامیاں ان کے اپنے فیصلوں، داخلی اختلافات اور اخلاقی دیوالیہ پن سے جنم لے رہی ہیں۔ دنیا کی رائے عامہ بدل رہی ہے، نوجوان نسل سوال اٹھا رہی ہے، اور حق کی حمایت عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے۔
جی ہاں ہمیں یقین ہے کہ خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔ وہ خامنہ ای کا خدا جو شکست نہیں کھاتا، وہ خامنہ ای کا خدا جومظلوموں کو تنہا نہیں چھوڑتا، وہ خامنہ ای کا خدا جو حق کو غالب کرے گا، جی ہاں خامنہ ای کا خدا زندہ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan