غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج غزہ میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل 144 ویں روز بھی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں۔ پٹی کے مختلف علاقوں میں آرٹلری اور فضائی بمباری سمیت شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس نے نہ صرف انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے بلکہ عملی طور پر اس معاہدے کی روح کو بھی کچل کر رکھ دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے میدانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قطاع کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں نے اندھادھند اور بھاری فائرنگ کی۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا جبکہ وسطی غزہ میں واقع بریدج کیمپ کے مشرقی حصے پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے وحشیانہ بمباری کی، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
قابض اسرائیل کی سفاکیت کے حوالے سے جاری روزانہ کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق سیز فائر کے 142 ویں دن تک شہدا کی مجموعی تعداد 661 ہو چکی ہے۔ ان شہدا میں 199 معصوم بچے، 85 خواتین اور 23 بزرگ شہری شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بننے والوں میں 46.4 فیصد بچے، خواتین اور بوڑھے ہیں، جو قابض دشمن کی نسل کشی کی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔
زخمیوں کی تعداد 1700 تک پہنچ گئی ہے جن میں 518 بچے، 342 خواتین اور 90 معصوم بزرگ شامل ہیں۔ کمزور اور نہتے طبقات کے زخمیوں میں یہ شرح 55.8 فیصد ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ صہیونی فوجی کارروائیوں کا اصل ہدف عام شہری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیز فائر کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 1921 میدانی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں فائرنگ، گولہ باری، مکانات کو دھماکوں سے اڑانا اور فوجی گاڑیوں کی دراندازی شامل ہے۔ اوسطاً روزانہ 13.5 خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جو قابض اسرائیل کے مجرمانہ رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قابض اسرائیل معاہدے کی حدود سے باہر اضافی علاقوں پر اپنا فوجی کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور طے شدہ لائنوں سے پیچھے ہٹنے کے بجائے انفراسٹرکچر کی مرمت میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی قسمت کے حوالے سے بھی اب تک پراسرار خاموشی برقرار ہے۔
انسانی ہمدردی کے پہلو سے دیکھا جائے تو قابض اسرائیل روزانہ 600 امدادی ٹرک بشمول 50 ایندھن کے ٹرک داخل کرنے کے معاہدے کی پاسداری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اب تک صرف 35986 ٹرک داخل ہو سکے ہیں جو کہ طے شدہ مقدار کا محض 42.2 فیصد ہے۔
ایندھن کا مسئلہ سب سے زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ اب تک صرف 14.5 فیصد ایندھن فراہم کیا گیا ہے جس کے باعث ہسپتال، پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک اور سیوریج کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ رفح کراسنگ کے ذریعے مسافروں کی آمد و رفت پر بھی من مانی پابندیاں عائد ہیں اور صرف 38.6 فیصد افراد کو ہی سفر کی اجازت مل سکی ہے۔
سیز فائر کے 144 ویں دن کے یہ حقائق قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے منظم خلاف ورزیوں کے اس سلسلے کو بے نقاب کرتے ہیں جس نے معاہدے کو اس کے اصل مقصد سے محروم کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کسی موثر میکانزم کی عدم موجودگی میں شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور بغیر کسی سیاسی و فوجی شرط کے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
