تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل نے بدھ کی فجر ایران کے اندر وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی ہے، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست تصادم پانچویں دن میں داخل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے تل ابیب اور مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں کی جانب میزائلوں کی بوچھاڑ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف حصوں میں شدید فضائی آپریشن شروع کر دیا ہے۔ صہیونی فوج کا زعم ہے کہ ان حملوں میں میزائل لانچنگ پیڈز، فضائی دفاعی نظام اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم دیگر حقائق ان دعووں کو جھٹلاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زیادہ تر اہداف شہری مقامات ہیں۔
ایک سرکاری بیان میں قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران کے مشرقی حصے میں ایک زیر زمین خفیہ فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے جسے مینزادهی کا نام دیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست کا من گھڑت دعویٰ ہے کہ یہ مقام ایران کی جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت کا اہم حصہ ہے۔
بیان میں مزید زعم ظاہر کیا گیا ہے کہ مہم کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فضائیہ نے چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی 1600 سے زائد پروازوں کے ذریعے تقریباً 300 میزائل لانچنگ پیڈز اور متعلقہ آپریشنل ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔
میدانی سطح پر تہران میں موجود نامہ نگاروں نے آدھی رات کے بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں، جبکہ ایرانی سکیورٹی اداروں سے وابستہ تنصیبات پر اسرائیلی غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔
جوابی کارروائی میں ایران کے پاسداران انقلاب نے قابض اسرائیل کے فوجی ہیڈ کوارٹرز، وزارت جنگ اور تل ابیب کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقے بتاح تکفا میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران میزائلوں کی نئی کھیپ داغی گئی ہے۔
تل ابیب، القدس اور رام اللہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کم از کم ایک ایرانی میزائل کو فضا میں تباہ کیا۔ قابض اسرائیلی فوج کے مطابق ایران سے داغے گئے میزائل ملک کے شمال اور جنوب کی طرف آئے جس کے بعد حیفہ، خلیج حیفہ اور المطلہ میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ تل ابیب میں میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔
یہ کشیدگی ایران اور دوسری طرف قابض اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کھلی جنگ کا حصہ ہے، جو تل ابیب اور واشنطن کی جارحیت کے آغاز سے جاری ہے۔ یہ تصادم سنہ 2025 جون کی اس جارحیت کا تسلسل ہے جس میں قابض اسرائیل نے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ عالمی سطح پر خطے کے ایک وسیع علاقائی جنگ میں گرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
