بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جہاد فلسطین نے اپنے عسکری ونگ سرایا القدس کے ایک مایہ ناز کمانڈر کی شہادت کا اعلان کیا ہے جو کل صبح بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہوگئے۔ یہ پیش رفت ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی مشترکہ سفاکیت اور علاقائی سطح پر تصادم کے دائرہ کار میں وسعت کے دوران سامنے آئی ہے۔
اسلامی جہادتحریک نے ایک بیان میں کہا کہ سرایا القدس کے 41 سالہ شہید کمانڈر ادہم عدنان العثمان عرف ابو حمزہ جو لبنان میں سرایا القدس کے کمانڈر تھے پیر 2 مارچ سنہ 2026ء کی صبح بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر غاصب صہیونی دشمن کی غدارانہ سفاکیت کے نتیجے میں مرتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔
اسلامی جہاد نے شہید عثمان کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صہیونی وجود کے خلاف ان کی طویل مزاحمتی زندگی کی ستائش کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا خون ہزاروں مجاہدین کے لیے ایک قطب نما ثابت ہوگا جو ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور ان کے خون کا بھرپور بدلہ لے کر ان کی وصیتوں کی پاسداری کریں گے۔
یہ بزدلانہ قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پورا خطہ غیر معمولی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جس کا پس منظر گذشتہ ہفتہ سے ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی جاری مسلسل سفاکیت اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے قابض اسرائیل اور عرب ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے کیے جانے والے براہ راست حملے ہیں۔
آج پیر کی علی الصبح حزب اللہ بھی شمالی محاذ سے اس میدانِ کارزار میں شامل ہو گئی ہے جس نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے اور لبنان پر قابض دشمن کی جاری سفاکیت کے جواب میں اسرائیلی ٹھکانوں پر میزائلوں کی بوچھاڑ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان حالات میں دونوں فریقین کے درمیان تصادم کے دوبارہ چھڑنے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بیروت کا جنوبی ضاحیہ حزب اللہ کا ایک اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے جہاں نومبر سنہ 2024ء میں سیز فائر کے اعلان کے بعد سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر قابض اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔ تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ وہ ان حملوں میں حزب اللہ سے وابستہ عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ اس خطے میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ بے روک ٹوک جاری رکھا جا سکے۔
