مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض دشمن کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے، جہاں مرکزاطلاعات ’معطی‘ نے مزاحمت کی 26 ایسی کارروائیاں ریکارڈ کی ہیں جن میں قابض اسرائیلی فوج کے سپاہیوں اور غاصب آباد کاروں کو نشانہ بنایا گیا، ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایک آباد کار زخمی ہوا۔
مرکز نے اپنی رپورٹ میں ایک دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈی) کے دھماکے اور آباد کاروں کے حملوں کے خلاف چار دفاعی کارروائیوں کی دستاویز سازی کی ہے، اس کے علاوہ مغربی کنارے کے 19 مختلف مقامات پر قابض دشمن کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پتھراؤ کیا گیا جبکہ عوامی سطح پر دو بڑے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
میدانی صورتحال کے مطابق رام اللہ کے قصبے رامون کے بہادر باسیوں نے غاصب آباد کاروں کی سفاکیت کا مردانہ وار مقابلہ کیا، اس دوران رامون، المغير گاؤں اور بيتونيا میں قابض دشمن کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔
جنین کے مغرب میں واقع قصبے سيلہ الحارثيہ میں قابض افواج کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور ایک دھماکا خیز مواد سے دشمن کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنین کے جنوب میں واقع قصبے يعبد میں بھی الگ سے جھڑپیں ریکارڈ کی گئیں۔
نابلس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے دوما میں فلسطینی سرفروشوں نے غاصب آباد کاروں کے حملوں کو ناکام بنایا جس کے نتیجے میں ایک آباد کار زخمی ہوا، جبکہ عصيرہ القبليہ، عوريف، روجيب اور نابلس شہر کے وسط میں بھی قابض دشمن کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں جن میں فلسطینی عوام نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
اسی طرح سلفیت، قلقيليہ، بیت لحم اور الخلیل کے علاقوں میں بھی فلسطینی نوجوانوں اور قابض اسرائیلی افواج کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب فلسطینی عوام آباد کاروں کی غارت گری کا راستہ روک رہے تھے، جبکہ الخلیل کے جنوب میں واقع علاقوں الظاهرية اور دورا میں عوامی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
