Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

مسجد اقصیٰ کی تالا بندی، رمضان کے دوران عبادت پر حملہ: حماس

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کرنے اور نمازیوں کو نماز عشاء اور نماز تراویح کی ادائیگی سے روکنے کے ظالمانہ فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس نے غاصب دشمن کے اس قدم کو مقدس مقام کی حرمت پر ایک سنگین اور کھلا حملہ اور ماہ مقدس میں مسلمانوں کی آزادی عبادت کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ایک پریس بیان میں حماس نے مسجد اقصیٰ میں جاری مسلسل خلاف ورزیوں کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیلی ریاست کے حکام پر عائد کی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ اقدامات ایک منظم اور سفاکانہ پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد قبلہ اول پر مکمل صہیونی تسلط قائم کرنا اور طاقت کے بل بوتے پر وہاں ایک نئی حقیقت مسلط کرنا ہے۔

رمضان المبارک کی ان مقدس ترین راتوں میں مسجد اقصیٰ کے صحن اپنے آباد کرنے والوں سے خالی پڑے ہیں۔ میناروں پر موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے کیونکہ ہنگامی حالت کے جھوٹے بہانے بنا کر نمازیوں کو زبردستی وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ اے اللہ! تیرا یہ مسریٰ اپنے جاں نثاروں کے بغیر کتنا اداس اور وحشت زدہ ہے، پس اس کی دھڑکنیں بحال فرما اور ان لوگوں کو اپنی پناہ میں لے جنہیں اس کی چوکھٹ سے دھتکار دیا گیا ہے۔

حماس کا موقف ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست مسجد اقصیٰ اور تمام فلسطینی علاقوں میں اپنے مذموم یہودیانے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہنگامی حالات کے بہانوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ یہ سب اس مسلسل تگ و دو کا حصہ ہے جس کے ذریعے موجودہ تاریخی حیثیت کو تبدیل کر کے زمین پر غاصبانہ حقائق مسلط کیے جا سکیں۔

حماس نے ان اشتعال انگیز اور سفاکانہ پالیسیوں کے تسلسل پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں ڈیرے ڈالنے والے سرفروش مرابطین کے عزم کو توڑنے اور مسجد کو اس کے عقیدت مندوں سے خالی کرنے کی غاصبانہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ حماس نے مزید کہا کہ یہ اقدامات اسلامی مقدسات کے خلاف مزید خلاف ورزیوں اور صہیونی دھاووں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

میدانی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی ریاست کے حکام نے گذشتہ روز ہفتے سے مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے اور ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد نام نہاد ہنگامی حالت نافذ کرنے کا بہانہ بنا کر نمازیوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

علاقائی سطح پر یہ پیش رفت ایک ایسے انتہائی حساس وقت میں سامنے آئی ہے جہاں عسکری، سیاسی اور مذہبی پہلو ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔ اس صورتحال نے ان وسیع تر خدشات کو جنم دیا ہے کہ کہیں اس کشیدگی کے ماحول کو مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ حیثیت میں ایسی خطرناک تبدیلیاں لانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے جن کا ازالہ بعد میں ناممکن ہو ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan