غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں اتوار کی شام قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں دو شہری جام شہادت نوش کر گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔ قابض دشمن کی جانب سے مسلسل 141 ویں روز بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ البلد کے علاقے الجرن پر قابض اسرائیلی ریاست کی گولہ باری کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور دیگر کئی زخمی ہوئے ہیں۔
غزہ میں گیارہ اکتوبر سنہ 2025 ءسے نافذ العمل ہونے والی کمزور جنگ بندی کے معاہدے کی قابض اسرائیلی ریاست کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ غاصب دشمن نے رفح سمیت غزہ کی پٹی کی تمام سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ہفتے کے روز بھی قابض فوج کی عسکری گاڑیوں اور جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب غزہ کے باسی تباہ کن انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں جن کی شدت میں رمضان المبارک کے دوران مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
وسطی غزہ کی پٹی میں واقع البريج کیمپ کے شمال مشرقی محلوں پر قابض ریاست کی عسکری گاڑیوں نے اندھادھند فائرنگ کی جبکہ غزہ کی پٹی کے شمال مغربی علاقوں میں بھی قابض دشمن کی گاڑیوں کی جانب سے شدید گولہ باری اور فائرنگ کی گئی۔
جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع خان یونس شہر کے مشرقی محلوں کو بھی قابض اسرائیلی ریاست کے توپ خانے نے اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کی بنیاد پر طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط اور مراحل کے مطابق قابض اسرائیلی فوجیں نام نہاد یلو لائن کے پیچھے چلی گئی تھیں لیکن وہ اب بھی غزہ کی پٹی کے آدھے سے زیادہ رقبے پر غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔
معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک قابض دشمن کی جانب سے روزانہ کی جانے والی فائرنگ اور بمباری کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں تقریباً 618 افراد شہید اور 1663 زخمی ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سفاکیت سے بھرپور جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس جنگ نے غزہ کے 90 فیصد سویلین انفراسٹرکچر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
انسانی صورتحال کے حوالے سے قابض حکام نے معبر رفح سمیت غزہ کی پٹی کی تمام گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گزرگاہوں کی بندش کا یہ فیصلہ قابض اسرائیلی ریاست کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والی 37 غیر ملکی انسانی اور امدادی تنظیموں پر حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی کو حتمی فیصلے تک معطل کر دیا تھا۔
عدالت کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں بشمول ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز اور آکسفیم کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کے جواب میں آیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان کے ورک پرمٹ منسوخ کیے جانے کے بعد لگائی گئی پابندی کو ختم کیا جائے۔
تیس دسمبر سنہ 2025ء کو 37 بین الاقوامی تنظیموں کو مطلع کیا گیا تھا کہ قابض حکام کے ہاں ان کی رجسٹریشن کی مدت ختم ہو چکی ہے اور ان کے پاس اسے رینیو کرانے کے لیے 60 دن کی مہلت ہے جس کے لیے انہیں اپنے فلسطینی ملازمین کی فہرست فراہم کرنا ہو گی۔
