Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

ایرانی میزائل حملے کے بعد بیت شمس میں 6 صہیونی ہلاک

بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اتوار کی دوپہر مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے بیت شمس میں ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ میزائل حملے کے دوران ایک عمارت پر میزائل لگنے کے نتیجے میں 6 آباد کار ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ 38 میزائلوں پر مشتمل اس بڑی کارروائی کا حصہ تھا جس میں قابض اسرائیلی ریاست کے وسطی علاقوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اسے دونوں فریقین کے درمیان فوجی تصادم کے آغاز سے اب تک کی سب سے وسیع کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے بیت شمس میں ایک میزائل براہ راست ایک عمارت پر گرا جس سے 6 آباد کار ہلاک اور 20 زخمی ہوئے جن میں سے 3 کی حالت انتہائی نازک ہے۔

اسی دوران ایک اور میزائل براہ راست تل ابیب میں بھی گرا۔

یہ حالیہ میزائل حملہ فجر کے اوقات سے جاری شدید بمباری کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ تل ابیب اور اس کے گردونواح سمیت وسطی اور جنوبی علاقوں کے وسیع حصوں میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد لاکھوں اسرائیلی پناہ گاہوں کی طرف بھاگے جبکہ امدادی عملے نے پناہ گاہوں کی طرف فرار کے دوران بھگدڑ مچنے سے مزید افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ہارٹز کے مطابق ایک گھنٹے سے بھی کم وقت کے دوران قابض اسرائیلی ریاست کے وسطی اور جنوبی علاقوں کی طرف میزائلوں کے پانچ گروپ داغے گئے جبکہ معاریو نے اطلاع دی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

قابض اسرائیلی فوج نے ایران کی طرف سے میزائل داغے جانے کی نشاندہی کے بعد وارننگ سسٹم فعال کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تل ابیب، اشدود، عسقلان، بیت المقدس اور نقب میں سائرن گونج رہے ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ حالیہ حملے میں کم از کم ایک میزائل گرا ہے اور وسطی علاقوں سے تین شہریوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ سرکاری ریڈیو کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے بالخصوص شہر کے مغرب میں واقع بیت شمس میں میزائلوں کے ٹکڑے گرے ہیں۔

ویب سائٹ والا نے خبر دی ہے کہ ایرانی بمباری میں تل ابیب میں واقع قابض اسرائیلی فوج کے ہیڈکوارٹر الکریاہ کے گردونواح کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اناطولیہ ایجنسی کے مطابق ایک میزائل ہیڈکوارٹر کے قریب گرا جس سے علاقے میں شدید مالی نقصان ہوا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے تل نوف فضائی اڈے، قابض اسرائیلی فوج کے جنرل کمانڈ ہیڈکوارٹر اور تل ابیب میں دفاعی صنعت کے کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بہیمانہ قتل کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ہفتے کی شام بتایا تھا کہ وسطی تل ابیب میں میزائل گرنے سے ایک اسرائیلی ہلاک اور 20 زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، تاہم قابض اسرائیلی حکام جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات منظر عام پر لانے پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہیں۔

یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ال عال ایئر لائن نے اپنے تمام طیارے قابض اسرائیلی ریاست سے باہر منتقل کرنے اور فضائی حدود کو سویلین پروازوں کے لیے مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب قابض اسرائیلی ریاست اور امریکہ نے ایران کے خلاف ایک مشترکہ فوجی آپریشن شروع کیا جسے اسرائیلی جانب سے شیر کی دہاڑ اور امریکی جانب سے ایپک فیوری کا نام دیا گیا، جس کے جواب میں تہران نے وعد الصادق 4 نامی آپریشن شروع کر کے قابض اسرائیلی ریاست کے اندر اہم عسکری اور سکیورٹی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan