غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے جمعرات کی شام غزہ کی پٹی کے آٹھ اسیران کو رہا کیا ہے جنہیں سات اکتوبر سنہ 2023 کے بعد اغوا کیا گیا تھا۔ ان اسیران کی رہائی جنوبی غزہ کی پٹی میں واقع کرم ابو سالم بارڈر کے ذریعے عمل میں آئی جہاں انہیں “ریڈ کراس” کی بین الاقوامی کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق رہا ہونے والے ان اسیران کو پہنچتے ہی فوری طور پر غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے مختلف طبی شعبوں میں منتقل کر دیا گیا تاکہ ان کا معائنہ کیا جا سکے۔ ان اسیران کے چہروں اور جسموں پر شدید تھکن اور غذائی قلت کے ساتھ ساتھ جسمانی و نفسیاتی تشدد کے گہرے اور واضح اثرات نمایاں تھے۔
اسی تناظر میں اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) کے شعبہ اسیران کے میڈیا دفتر نے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے اسیران کو النقب اور الرملہ کے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں کے اندر منظم سفاکیت اور تذلیل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں مسلسل دھمکیوں کے سائے میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز مظالم کی تفصیلات یا اپنے اہل خانہ کے لیے کسی قسم کے پیغامات منتقل کرنے کے قابل نہ رہ سکیں۔
تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فروری سنہ 2026ء کے آغاز تک غزہ کی پٹی کے ان اسیران کی تعداد جنہیں قابض اسرائیلی حکام نے نام نہاد “غیر قانونی جنگجوؤں” کے زمرے میں رکھا ہے، تقریباً 1249 تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ اس تعداد میں غزہ کے وہ تمام اغوا شدہ شہری شامل نہیں ہیں جنہیں غاصب اسرائیلی فوج نے اپنے خفیہ فوجی کیمپوں میں قید کر رکھا ہے اور جن کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمار ظاہر نہیں کیے جاتے۔
سرکاری اداروں کے مطابق، غاصب اسرائیل کے مختلف عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی کل تعداد 9300 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 350 معصوم بچے اور 56 خواتین شامل ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مراکزِ حراست کے اندر انسانی صورتحال کی سنگین ابتری پر مسلسل آواز بلند کر رہی ہیں۔
