مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سنہ 2026 ءکے ابتدائی ہفتوں میں مقبوضہ مغربی کنارہ غاصب اسرائیل کی انہدامی پالیسیوں اور وحشیانہ تجاوزات کے ایک ہولناک اضافے کا گواہ بنا ہے۔ فلسطینیوں کے گھروں اور تنصیبات کو مسمار کرنے کی رفتار میں تیزی کے ساتھ ساتھ آباد کاروں کی دہشت گردی میں بھی شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
سنہ 2026ء کے ابتدائی ہفتوں میں مقبوضہ مغربی کنارہ غاصب اسرائیل کی انہدامی پالیسیوں اور وحشیانہ تجاوزات کے ایک ہولناک اضافے کا گواہ بنا ہے۔ فلسطینیوں کے گھروں اور تنصیبات کو مسمار کرنے کی رفتار میں تیزی کے ساتھ ساتھ آباد کاروں کی دہشت گردی میں بھی شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ تمام تر اقدامات فلسطینیوں کے وجود کو مٹانے اور خاص طور پر علاقہ (ج) میں ان کے خلاف جاری منظم دباؤ کا حصہ ہیں۔
مرکز القدس برائے قانونی امداد و انسانی حقوق نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ علاقہ (ج) میں جاری غاصب اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیوں پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ علاقہ مغربی کنارے کے کل رقبے کا تقریباً 60 فیصد ہے اور غاصب اسرائیل کے مکمل قبضے میں ہے۔ مرکز نے خبردار کیا ہے کہ اس انہدامی مہم کے ساتھ ساتھ فلسطینی برادریوں کے خلاف آباد کاروں کے حملوں میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور (اوچا) کے دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق مرکز نے نشاندہی کی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام نے سال کے آغاز سے اٹھارہ فروری سنہ 2026 تک مغربی کنارے میں مجموعی طور پر 312 رہائشی اور زرعی تنصیبات کو مسمار کر دیا ہے۔ اس سفاکیت سے تقریباً 21 ہزار شہری براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہوئے ہیں جن میں بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینی بھی شامل ہیں۔
بیان میں آباد کاروں کی دہشت گردی میں نمایاں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ صرف سولہ سے تیئس فروری سنہ 2026 کے درمیانی وقفے میں آباد کاروں کے 86 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 60 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 186 شہری بے گھر اور 64 زخمی ہوئے جن میں سے بعض کو براہِ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں 39 گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا اور زیتون کے تقریباً 800 درختوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا گیا۔
مرکز نے ان اعداد و شمار کو نہایت خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف جاری ان خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں جو کسی بھی حقیقی بازپرس کی عدم موجودگی میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسماری کے یہ آپریشنز اور حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ قوانین قابض قوت کو نجی املاک کی تباہی یا تحفظ یافتہ آبادی کو جبری طور پر بے گھر کرنے سے سختی سے روکتے ہیں سوائے ان حالات کے جہاں انتہائی فوجی ضرورت درپیش ہو۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ غاصب اسرائیل کی پالیسیاں فلسطینی گھروں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور علاقہ (ج) میں تعمیرات پر سخت پابندیاں عائد کرنے پر مبنی ہیں، جبکہ اس کے برعکس ناجائز بستیوں اور استعماری چوکیوں کو وسیع سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ قبضے کے سائے میں رہنے والے فلسطینیوں اور آباد کاروں کے درمیان قانونی و عملی خلیج کو مزید گہرا کیا جا سکے۔
مرکز نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ آباد کاروں کے حملے صرف مالی نقصان تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان میں شہریوں پر جسمانی تشدد اور چرواہوں و کسانوں کو ان کی زمینوں تک پہنچنے سے روکنا بھی شامل ہے۔ یہ سب کچھ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے یا حملہ آوروں کا محاسبہ کرنے میں برتی جانے والی دانستہ غفلت کے سائے میں ہو رہا ہے۔
مرکز نے متنبہ کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل علاقہ (ج) میں عملی طور پر تقریباً ہفتہ وار بنیادوں پر جبری نقل مکانی کا باعث بن رہا ہے، جس کا مقصد استعماری توسیع پسندی اور مغربی کنارے کی جغرافیائی و آبادیاتی حقیقت کو تبدیل کرنا ہے۔
مرکز القدس برائے قانونی امداد و انسانی حقوق نے عالمی برادری اور چوتھے جنیوا کنونشن کے دستخط کنندہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں اور غاصب اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مسماری اور جبری بے دخلی کا سلسلہ بند کرے۔ نیز فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جائے اور ان جرائم کی دستاویزی شہادتیں جمع کرنے والے فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں کو قانونی و انسانی تعاون فراہم کیا جائے۔
