غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بلدیہ غزہ کے ترجمان حسنی مہنا نے آج جمعرات کے روز بتایا کہ غزہ کی پٹی میں پیر کے روز سے ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے سینکڑوں خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے خیموں اور بوسیدہ عمارتوں میں مقیم ہزاروں پناہ گزینوں کی تکالیف میں اضافہ کر دیا ہے، جو پہلے ہی غاصب اسرائیل کی جانب سے آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء کو شروع کی گئی اور دو سال تک جاری رہنے والی نسل کشی کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔
حسنی مہنا نے اناضول ایجنسی کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ فضائی دباؤ میں حالیہ کمی (بارشوں کے سلسلے) نے ایک بار پھر بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر بارش کے پانی کے نکاسی کے نظام اور سیوریج سسٹم کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ پیر کی شام اور پھر آج ہونے والی بارشوں کے باعث سینکڑوں خیمے پانی میں ڈوب چکے ہیں، کیونکہ سیلابی ریلے مٹی اور کچرا بہا کر کیمپوں اور پناہ گاہوں میں لے آئے ہیں، جس سے خاص طور پر گنجان آباد علاقوں میں صحت اور ماحولیاتی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
مہنا نے وضاحت کی کہ پناہ گزینوں کے خیمے موسم کی ان سخت تبدیلیوں سے بچاؤ کی صلاحیت نہیں رکھتے، پانی خیموں کے اندر داخل ہو گیا ہے جس سے خاندانوں کا بچا کھچا سامان تلف ہو گیا ہے جبکہ زمین کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حرارت کے ذرائع کی عدم موجودگی اور نظام صحت پر شدید دباؤ کے باعث بچے اور بزرگ سردی اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہونے کے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
مہنا نے بتایا کہ غاصب اسرائیلی جنگ کے دوران 2 لاکھ 20 ہزار میٹر سے زائد سیوریج نیٹ ورک اور تقریباً 15 ہزار میٹر بارش کے پانی کی نکاسی کا نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس نظام کی کام کرنے کی صلاحیت میں 80 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
بلدیہ کے ترجمان نے مزید واضح کیا کہ موجودہ تلخ حقیقت حالیہ بارشوں کے پانی کو جذب کرنے میں رکاوٹ بن گئی ہے، جس کے نتیجے میں پانی گلیوں میں جمع ہو کر خیموں اور متاثرہ گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلدیہ کا عملہ دفاع مدنی کے تعاون سے بارشوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن انہیں پانی نکالنے اور فوری مرمت کے لیے ضروری آلات اور مشینری کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری مداخلت نہ کی گئی تو ماحولیاتی آلودگی اور وبائی امراض پھیلنے کے سنگین خطرات لاحق ہیں۔
سنہ دسمبر 2025ء سے اب تک غزہ کی پٹی کو بارشوں کے کئی سلسلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے باعث ہزاروں خیمے اکھڑ گئے یا غرق ہو گئے، اور غاصب اسرائیلی بمباری سے متاثرہ بوسیدہ عمارتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ شدید سردی کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
غزہ کی پٹی کی 24 لاکھ آبادی میں سے تقریباً 19 لاکھ پناہ گزین انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ان بوسیدہ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو زندگی کی کم ترین سہولیات سے بھی محروم ہیں، کیونکہ غاصب اسرائیل نے جنگ کے دوران ان کے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا تھا۔
اگرچہ دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا، لیکن غزہ میں زندگی کے حالات میں کوئی بڑی بہتری نہیں آئی، کیونکہ غاصب اسرائیل حملوں کی روک تھام سے لے کر انسانی پروٹوکول پر عملدرآمد تک، معاہدے کی تمام تر ذمہ داریوں سے انحراف کر رہا ہے۔
