تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہندوستان کے وزیر اعظم نیرندر مودی نے حال ہی میں فلسطین پر قابض صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے مقبوضہ فلسطین میں ملاقات کی ہے۔ اس دورے کو غیر معمولی دورہ بھی قرار دیا جارہاہے۔ اس دورے سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی زبان بھی ہندوستان کے لئے کافی نرم اور پاکستان کے لئے کافی ذلت آمیز ہوتی دکھائی دی کہ جب انہوںنے کہاکہ اگر میں جنگ نہ رکواتا تو ہندوستان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو ماردیتا۔سفارتی سطح پر جہاں پہلے ٹرمپ پاکستان کی اور پاکستان کے وزیر اعظم ٹرمپ کی چاپلوسی میں مصروف تھے ا س بیان نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔بہر حال ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں انسانوں کا قاتل اور مشہور زمانہ قصاب مودی مقبوضہ فلسطین میں جا کر ہزاروں لاکھوں فلسطینیوں، لبنانیوں اور شامی شہریوں سمیت دنیا کی مختلف اقوام کے قاتل نیتن یاہو کے بغل گیر ہوا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انسانوں کے قاتل اکھٹے ہو چکے ہیں چاہے کشمیر ہو یا فلسطین یعنی قاتل اکھٹے قتل کریں گے اور دنیا تماشا دیکھتی رہی۔
دنیا اس وقت تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جب مختلف علاقائی طاقتیں نئے اتحاد اور اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کر رہی ہیں، اسرائیل اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات خصوصی توجہ کے مستحق بن چکے ہیں۔جیسا کہ بتایا جا رہاہے کہ ہندوستان اور اسرائیل نے قبرص اور یونان کے ساتھ مل کر ایک نیا فوجی اتحاد بنانے پر بھی غور کیا ہے تو یقینی طور پر یہ معاملہ اب امریکی صدر ٹرمپ کی ہٹ دھرم پالیسیوں کی طرح نظرا ٓ رہا ہے کہ جہاں امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی قوانین اور بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ کو سبوتاژ کیا اور نام نہاد امن کونسل بنا دی جس کے وہ خود ہی سربراہ مقرر ہو گئے۔ اب ہندوستان اور اسرائیل سمیت قبرص اور یونان کا فوجی اتحاد بھی ایسی ہی صورتحال کی طرف اشارہ کر رہاہے جہاں غاصب صیہونی حکومت اسرائیل ایک طرف افریقی و دیگر ممالک پر اپنا تسلط قائم کرے گی تو دوسری طرف غرب ایشیائی ممالک کی خیر نہیں۔جیسا کہ امریکی سفیر نے کہاکہ اسرائیل کو پورے علاقہ پر قبضہ کر لینا چاہئیے اور گریٹر اسرائیل بنالینا چاہئیے، اس جواب میں بھی صرف چند ایک مسلمان ممالک کی حکومتوں نے مذمتی بیانات دئیے اور خاموشی اختیار کر لی ہے۔
اگر Benjamin Netanyahu اور Narendra Modi کے درمیان ملاقاتیں نئے دفاعی، انٹیلی جنس اور سفارتی منصوبوں کی بنیاد رکھتی ہیں، تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ غاصب اسرائیل اور بھارت کے تعلقات گزشتہ دہائی میں دفاعی تعاون، اسلحہ کی خریداری، سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کے میدان میں نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ اسرائیل بھارت کو جدید ڈرونز، میزائل سسٹمز اور نگرانی کی ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہا ہے۔گذشتہ سال پاکستان پر بھارت کی جارحیت کے وقت بھی بھارتی فوج نے اسرائیلی ڈرونز کا استعمال کیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی افواج کے ریٹائرڈ فوجی ہندوستان میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اگر ان دونوں کے مابین تعاون میں مزید وسعت آتی ہے تو جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان اور چین جیسے ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔
اخباری رپورٹس کے مطابق غاصب اسرائیلی اور ہندوستان دونوں جدید نگرانی کے نظام، سائبر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ اگر یہ ٹیکنالوجی داخلی اختلاف کو دبانے یا متنازع علاقوں میں سخت کنٹرول کے لیے استعمال ہوتی ہے، تو انسانی حقوق سے متعلق عالمی تشویش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔بھارت ہو یا اسرائیل دونوں ہی قاتل ہیں،ایک کشمیر پر غاصب ہے دوسرا فلسطین پر غاصب قبضہ جمائے ہوئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیرکےمعاملہ پر دنیا بھر میں ہندوستان کی حکومت کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہےکیونکہ کشمیر میں ہندوستان کا ظلم اور جبر کسی سےڈھکا چھپا نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کشمیر میں انجام دینے والی حکومت ہندوستانی حکومت ہے۔اسی طرح فلسطین میں سات دہائیوں سے جاری نسل کشی اور ظلم میں غاصب صیہونی حکومت اسرائیل براہ راست مولثہے۔ دنیا میں ان دو غاصب اور قاتل طاقتوں کا ملنا یقینی طور پر دنیا کے امن کے لئے ایکسنگین الرٹ ہے۔
غاصب اسرائیل اور بھارت کے مابین بڑھتا ہو ایہ تعاون صرف جنوبی ایشیائی ممالک کے لئے ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ غرب ایشیائی ممالک جن میں زیادہ تر عرب ممالک ہیں ان کی سیکورٹی اور سلامتی کے لئے بھی سنگین نوعیت کا خطر ہے۔
ایسے حالات میں کہ جب اسرائیل شام کے متعدد علاقوں پر قابض ہو چکا ہے اور اب مزید عرب علاقوں میں پیش قدمی کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں ہی ان دو قاتل رہنمائوں یعنی مودی اور نیتن یاہو کی ملاقات اور معاہدے اس بات کی دلیل ہے کہ خطے میں مزید تباہی اور بربادی کو ہوا دی جائے گی اور مزید انسانوں جانوں کو موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔
نام نہاد عالمی نظام اور امن کے نام پر قائم کئے گئے ادارے اس طرح کی سرگرمیوں پر آئندہ بھی خاموش رہتے نظر آ رہے ہیں۔ خاص طور پر حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کشیدگی کے معاملہ میں بھی ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اب اپنے نئے ساتھی ہندوستان کو بھی ساتھ ملا کر چین، روس، ایران اور اسی طرح خطے کی عرب حکومتوں کو بھی ہضم کرنا چاہتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ہندوستان کے ساتھ ہمسایہ ہے اور کبھی بھی تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں ، پاکستان کو بھی اس صورتحال میں سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ حالانکہ پاکستان پہلے ہی بلوچستان میں امریکی اسرائیلی اور بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہاہے او ر اب براہ راست ہندوستان اوراسرائیل کے مابین سیکورٹی اور عسکری معاہدوں کے بعد یقینا پاکستان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔
پاکستان کے ا س موضوع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان فلسطین کاز پر اپنے تاریخی موقف کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یقینی طور پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے ناپاک عزائم کا مقابلہ کیا جا سکتا ہےلیکن اگر پاکستان چند احمقوں کے مشوروں میں آ کر اسرائیل کے ساتھ نارملائز کرنے کی کوشش میں لگا گیا تو پھر یہ بات واضح ہے کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر بھی اسرائیل کی چوکیداری کرے تب بھی اسرائیل کے لئے پاکستان ایک نظریاتی دشمن ہی رہے گا اور اسرائیل پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔لہذا پاکستان کو چاہئیے کہ وہ اپنی تاریخی پالیسی پر گامزن رہے اور فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کے لئے اقدامات کرے اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لئے اتحاد کا حصہ بنے خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائے۔