غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 18 ہزار 500 سے زائد مریض اور زخمی، جن میں تقریباً 4 ہزار بچے بھی شامل ہیں، اب بھی غزہ سے باہر علاج کے لیے فوری طبی انخلاء کے شدید محتاج ہیں۔ یہ صورتحال نظامِ صحت کی مکمل تباہی اور مریضوں کی نقل و حرکت پر غاصب اسرائیل کی جانب سے عائد کردہ مسلسل پابندیوں کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ سرحدی گزرگاہوں پر عائد پابندیاں اور طبی ہم آہنگی (کوارڈینیشن) کے طریقہ کار میں غیر معمولی سستی ہزاروں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ غزہ کے اندر ضروری طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریضوں کی حالت تیزی سے بگڑنے کا خطرہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فوری انخلاء کے طالب مریضوں کی فہرست میں غاصب اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائیوں کے زخمی، کینسر کے وہ مریض جن کا علاج معطل ہو چکا ہے، گردوں کے مریض اور پیچیدہ جسمانی بگاڑ کا شکار ایسے افراد شامل ہیں جن کا علاج طبی آلات اور ضروری سامان کی قلت کے باعث غزہ کی پٹی کے اندر ممکن نہیں۔
انہوں نے اس المناک صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے فعال ہسپتال اپنی بساط سے زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ادویات و ایندھن کی شدید قلت کا شکار ہیں، جس نے صحت کی صورتحال کو خصوصاً انتہائی نگہداشت کے وارڈز (آئی سی یو) اور بچوں کے نرسری وارڈز میں مزید سنگین بنا دیا ہے۔
سٹیفن دوجارک نے مطالبہ کیا کہ طبی انخلاء کے عمل کو تیز کیا جائے اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے محفوظ راستے کھولے جائیں تاکہ مریضوں کے علاج کے حق کو یقینی بناتے ہوئے ان کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
