Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطینی میڈیا پر قابض اسرائیل کی کھلی جنگ: آزادی صحافت شدید خطرے میں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی میڈیا اور حق سچ کی آواز کو دبانے کے لیے جاری کھلی جنگ کے تناظر میں صحافیوں کے تحفظ کی عالمی کمیٹی  نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2025 ءکے دوران دنیا بھر میں 129 صحافی اور میڈیا ورکرز قتل کیے گئے، جو کہ سنہ 1992 میں ان جرائم کی دستاویزی نگرانی کے آغاز سے اب تک کی بلند ترین اور ریکارڈ تعداد ہے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ مجموعی ہلاکتوں میں سے دو تہائی سے زائد کی ذمہ دار غاصب اسرائیلی حکام کی سفاکیت ہے، جو کہ صحافت کے خلاف بڑھتے ہوئے منظم حملوں اور خصوصاً فلسطین میں میڈیا کے قتلِ عام کا ایک نیا اور خطرناک اشارہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ریکارڈ تعداد مسلسل دوسرے سال سامنے آئی ہے، جس کی وجہ مسلح تنازعات میں صحافیوں کو براہِ راست ہدف بنانا ہے۔ کمیٹی کے بقول قابض اسرائیلی حکام نے صحافیوں کے دانستہ قتل کی وہ ریکارڈ کارروائیاں کیں جو تاریخ میں کسی بھی دوسری سرکاری عسکری قوت کی جانب سے کی گئی کارروائیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔

کمیٹی کی چیف ایگزیکٹو جوڈی جینسبرگ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی ایسی بے مثال تعداد میں قتل کیے جا رہے ہیں جب معلومات تک رسائی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا پر حملہ وسیع تر آزادیوں کی پامالی کی علامت ہے، اور مجرموں کا سزا سے بچ نکلنا خطرے کے اس دائرے کو مزید وسیع کر دیتا ہے جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے ہر صحافی کی وجہ سے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

یہ رپورٹ ان انسانی حقوق کی رپورٹس کی تصدیق کرتی ہے جو گذشتہ برسوں سے تواتر کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں کہ فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانا کوئی “میدانی غلطی” نہیں بلکہ ایک منظم رویہ ہے جس کے تحت فلسطینی میڈیا کو “دشمن” کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ صہیونی ریاست صحافی کو ایک ایسے عینی شاہد کے طور پر دیکھتی ہے جس کی آواز کو خاموش کرنا وہ اپنا فرض سمجھتی ہے، بجائے اس کے کہ اسے بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ یافتہ شہری تصور کیا جائے۔

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے اشارہ کیا کہ سنہ 2025 میں صحافیوں کے قتل کے تین چوتھائی سے زائد واقعات غاصب اسرائیل کی جارحیت کے دوران پیش آئے۔

اگرچہ گذشتہ برس کے مقابلے میں یوکرین اور سوڈان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، لیکن فلسطینی صورتحال کے مقابلے میں یہ اعداد و شمار بہت کم ہیں، جہاں غاصب اسرائیلی حکام اپنی جارحیت کی شدت اور نشانہ بنانے کی کثرت کے لحاظ سے ایک بھیانک استثنا کے طور پر ابھرے ہیں۔

رپورٹ میں دستاویزی طور پر سب سے خطرناک انکشاف ڈرونز (طیارہ ہائے مسیّرہ) کے ذریعے صحافیوں کے قتل میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ کمیٹی نے اس ذریعے سے قتل کے 39 واقعات ریکارڈ کیے جن میں سے 28 کا براہِ راست تعلق غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج سے ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب نشانہ بنانا صرف عمومی خطرے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ انتہائی درست اور دانستہ قتل کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

یہ صورتحال فلسطینی میڈیا کے خلاف صہیونی پالیسی کے جوہر کو واضح کرتی ہے، جس میں براہِ راست قتل، میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی، یا صحافتی کام کو “دہشت گردی” سے جوڑ کر جرم قرار دینا شامل ہے۔ جیسا کہ حال ہی میں القدس میں فلسطینی میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ القدس اور غزہ میں ہونے والے جرائم اور سفاکیت کی آزادانہ دستاویزی شہادتوں کو مٹایا جا سکے اور دنیا کو صرف ایک رخ کی من گھڑت کہانی سنائی جائے۔

عالمی سطح پر کمیٹی نے صحافیوں کے قتل میں اضافے کی بڑی وجہ مجرموں کو ملنے والا “استثنیٰ” قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں دانستہ قتل کے 47 دستاویزی واقعات میں سے (جو کہ گذشتہ دہائی کی بلند ترین سطح ہے) بہت کم کیسز میں شفاف تحقیقات کی گئیں اور کسی بھی ذمہ دار کا محاسبہ نہیں کیا گیا۔

کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ حکومتوں کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ میں ناکامی یا ان کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچانا مزید جرائم کے لیے دروازہ کھول دیتا ہے۔ انہوں نے تحقیقاتی میکانزم میں بنیادی اصلاحات بشمول ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل اور صحافیوں کے قتل کے ذمہ داروں پر ہدف شدہ پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

فلسطینی تناظر میں یہ مطالبات ایک وسیع تر صورتحال کا حصہ ہیں جہاں فلسطینیوں کی نسل کشی ان کے بیانیے کے خلاف جنگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس جنگ میں فلسطینی صحافی ایک دوہرا ہدف ہے: اسے جسمانی طور پر بھی قتل کیا جاتا ہے اور اس کی گواہی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ غاصب اسرائیل کے سرکاری بیانیے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan