Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

صہیونی سماج میں خوف، داخلی تناؤ اور معاشرتی یکجہتی کا بحران شدید

یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے اندر بڑھتے ہوئے فوجی جنون اور گہرے ہوتے ہوئے سماجی و سیاسی بکھراؤ کے سائے میں سامنے آنے والے ایک نئے سروے نے ایسے معاشرے کی تصویر کشی کی ہے جو زبردستی کے حل کی طرف مائل ہے اور حکومت پر عدم اعتماد کے باوجود فوجی ادارے پر غیر معمولی بھروسہ رکھتا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں ہے جب بیرونی محاذوں کا خوف اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے خدشات بیک وقت یکجا ہو چکے ہیں۔

یہ نتائج ایک ایسی انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی ساخت، غزہ کی پٹی پر مسلط طویل جنگ اور علاقائی تناؤ کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جو عوامی مزاج کو مستقل پریشانی اور تصادم کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے کی جانب دھکیل رہی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ سروے کے مطابق 50.5 فیصد صہیونی اس بات کے حامی ہیں کہ اگر تہران کے ساتھ معاہدے کے بعد امریکہ حملہ نہیں کرتا تو قابض اسرائیل کو ایران کے خلاف آزادانہ طور پر حملہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب 72.5 فیصد کا خیال ہے کہ غاصب اسرائیل کی فضائی دفاعی صلاحیتیں ممکنہ ایرانی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔

غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ کے حوالے سے 51.5 فیصد شرکاء نے رائے دی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی صہیونی ریاست کے مفادات سے میل نہیں کھاتی، جو جنگ کے انجام اور سیاسی اہداف پر جاری تذبذب اور تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔

علاقائی سطح پر 48 فیصد صہیونیوں نے سعودی عرب کے ساتھ اس امن معاہدے کی مخالفت کی جس کی شرط آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہو، جبکہ محض 28 فیصد نے ایسے کسی معاہدے کی حمایت کی۔ یہ اعداد و شمار فلسطینیوں کے جائز حقوق سے وابستہ کسی بھی سیاسی تصفیے کے لیے بڑھتی ہوئی بیزاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اندرونی طور پر 69.5 فیصد شرکاء نے کہا کہ قابض پولیس مختلف سیاسی یا سماجی گروہوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کے خلاف قانون کے نفاذ کی یکساں پالیسی نہیں رکھتی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کے بڑھتے ہوئے بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ عمومی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں 32.5 فیصد نے اسے “بہتر” جبکہ 27.5 فیصد نے “بدتر” قرار دیا۔

سروے میں صہیونی سماج کے اندر خوف کی بلند سطح ریکارڈ کی گئی ہے جہاں 85 فیصد نے اندرونی سماجی تناؤ اور 72 فیصد نے بیرونی خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ذاتی سطح پر 35 فیصد نے کہا کہ وہ خود کو بہت زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں جبکہ 17 فیصد نے عدم تحفظ کا اظہار کیا۔

اس کے برعکس فوجی ادارے پر اعتماد کی سطح انتہائی بلند رہی، جہاں 85 فیصد نے قابض فوج، 87 فیصد نے فضائیہ، 90 فیصد نے ہوم فرنٹ کمانڈ اور 73 فیصد نے چیف آف اسٹاف ایال زامیر پر بھرپور اعتماد ظاہر کیا۔ اس کے مقابلے میں صرف 33 فیصد نے قابض حکومت اور 41 فیصد نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو پر اعتماد کا اظہار کیا، جو عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان موجود خلیج کو واضح کرتا ہے۔

سکیورٹی خدشات کے ذرائع کے بارے میں 80 فیصد نے ایران، 71 فیصد نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال، 63 فیصد نے غزہ کے محاذ اور 54 فیصد نے لبنان کے ساتھ شمالی محاذ پر اپنی پریشانی ظاہر کی۔

ایران کے حوالے سے 36 فیصد نے جوہری پروگرام کو سب سے اہم مسئلہ قرار دیا، جبکہ 29 فیصد نے بیلسٹک میزائلوں کو خطرناک ترین، 18 فیصد نے ایرانی نظام اور 8 فیصد نے تہران کی حمایت یافتہ تنظیموں کو خطرہ قرار دیا۔

مغربی کنارے میں سکیورٹی صورتحال کی ابتری کے بارے میں 37 فیصد نے خوف کا اظہار کیا، جبکہ 56 فیصد کا خیال تھا کہ شمالی اسرائیل کی صورتحال لبنان کے خلاف “دوبارہ لڑائی” شروع کرنے کی متقاضی ہے۔ 43 فیصد نے زمینی حملے کے بغیر “محدود لڑائی” کے آپشن کی حمایت کی، جبکہ 26 فیصد نے موجودہ صورتحال کو رہائشیوں کے لیے محفوظ قرار دیا۔

مقبوضہ اندرون کے علاقوں میں فلسطینی معاشرے کے اندر جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے 33 فیصد صہیونیوں نے خود عرب معاشرے کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ 23 فیصد نے نام نہاد اسرائیلی وزارت برائے قومی سکیورٹی، 10 فیصد نے پولیس، 18 فیصد نے عرب قیادت اور محض 5.5 فیصد نے وزیر اعظم کے دفتر کو ذمہ دار قرار دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہرانے کی سوچ غالب ہے اور ریاستی ذمہ داری کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

سروے کا خلاصہ یہ ہے کہ 68 فیصد شرکاء کے مطابق صہیونی سماج کے اندر باہمی یکجہتی ختم ہو چکی ہے، جبکہ صرف 28 فیصد کا خیال ہے کہ یہ اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک ایسے بحران زدہ معاشرے کی عکاسی ہے جہاں داخلی روابط کمزور ہو رہے ہیں اور سیاست یا طویل مدتی حل کے متبادل کے طور پر طاقت اور فوجی جنون کا منطق تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan