رفح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رفح پولیس نے منشیات کی گولیاں اسمگل کرنے کی ایک مذموم کوشش کو خاک میں ملا دیا اور اس کارروائی کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ انسداد منشیات نے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث چند مشتبہ افراد کی سرگرمیوں کا مسلسل پیچھا کیا، جس کے بعد محکمہ سراغ رسانی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ فورس نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا اور ملزمان کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی کی۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے کامیابی کے ساتھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے لگ بھگ 9 ہزار کے قریب سرخ اور سفید “ٹراماڈول” گولیاں برآمد کر کے قبضے میں لے لیں۔
محکمہ انسداد منشیات نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گرفتار ملزمان اور برآمد شدہ مواد کو متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی مکمل کی جا سکے۔
پولیس نے مزید تاکید کی کہ معاشرے کے امن و امان اور اخلاقی اقدار سے کھیلنے والے ہر شخص کا پیچھا جاری رکھا جائے گا اور منشیات کی اسمگلنگ و فروخت جیسی کوششوں سے قانون کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اسی ماہ فروری کے آغاز میں غاصب اسرائیل کے چینل 12 نے انکشاف کیا تھا کہ قابض اسرائیلی فوج کا ایک دستہ غزہ کی پٹی میں منشیات اور سگریٹ کی اسمگلنگ میں ملوث پایا گیا ہے۔
چینل کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے قوی شواہد موجود ہیں کہ غاصب اسرائیلی فوج کے “بدوی سکواڈ” کے اہلکار کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں سگریٹ اور منشیات اسمگل کر رہے تھے۔
مذکورہ چینل نے وضاحت کی کہ غزہ کی پٹی میں اسمگلنگ کے ان واقعات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور اس معاملے کو ایک “سنگین سکیورٹی معاملہ” قرار دیا گیا ہے جو کہ ایک طرف فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف غاصب فوج کی اخلاقی گراوٹ اور دوسری طرف فلسطینی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی صہیونی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
