الجلیل – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) بدھ کے روز بالائی الجلیل کے علاقے میں واقع الرامہ نامی بستی میں اس وقت سوگ کی فضا چھا گئی اور مکمل ہڑتال کی گئی جب منگل کی شام نامعلوم مسلح افراد نے پچیس سالہ نوجوان ادہم مخلص حرب کو اندھادھند فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا۔
مقامی سطح پر کی جانے والی ہڑتال کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے بستی میں تمام سرکاری، تعلیمی اور معاشی مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ اس وحشیانہ قتل کے خلاف احتجاج کے طور پر تمام سکولوں، تجارتی مراکز اور عوامی اداروں میں تالے پڑے رہے۔
الرامہ بستی کے مکینوں نے اس ہڑتال کے ذریعے متاثرہ خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر اور منظم جرائم کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
ہڑتال کے باعث تمام عوامی، ثقافتی، معاشی اور سماجی سرگرمیاں ایک دن کے لیے معطل رہیں۔ یہ قدم الرامہ اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی معاشرے کے اندر جرائم کی سرپرستی اور غاصب اسرائیلی حکام کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف بطور احتجاج اٹھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے فلسطینیوں کو اس وقت بدترین سکیورٹی حالات کا سامنا ہے۔ غاصب اسرائیل کی متعصبانہ اور سفاکانہ پالیسیاں ان علاقوں میں جرائم کو پنپنے کا موقع دے رہی ہیں تاکہ فلسطینیوں کے سماجی ڈھانچے کو منتشر کیا جا سکے اور ان کی نسل کشی کا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
