غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ماہِ رمضان کے آٹھویں روز ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں وقت کا پہیہ ہجری تقویم کے مطابق نہیں بلکہ اپنوں کو کھونے کے غم اور المیے کی بنیاد پر چل رہا ہے۔
شہرِ فضیل کا ایک ہفتہ بیت چکا ہے مگر غزہ اب بھی جنگ کے اسی ہولناک لمحے میں قید ہے, یہ وہ شہر ہے جو مسلسل تیسرے سال تباہی کے سائے میں، عارضی خیموں، ملبے کے ڈھیر بنے مکانات اور ان قبروں کے درمیان روزے رکھ رہا ہے جن کی مٹی اب بھی تازہ ہے۔
غزہ میں رمضان کا اندازہ روزوں کے گھنٹوں سے نہیں بلکہ افطار کے دسترخوانوں سے غیر حاضر رہنے والے پیاروں کی تعداد سے لگایا جاتا ہے۔ گلیوں میں وہ روایتی رونقیں اور سجاوٹ ہے اور نہ ہی بازاروں میں چند سال پہلے جیسی چہل پہل نظر آتی ہے۔
موجودہ جنگ بندی کے نتیجے میں قائم ہونے والے نسبتاً سکون نے اب تک یہاں کے باسیوں کو اطمینانِ قلب فراہم نہیں کیا، بلکہ یہ سکون بے چینی اور مسلسل خوف کے طویل ادوار کے درمیان ایک بوجھل وقفے جیسا معلوم ہوتا ہے۔
غیر یقینی جنگ بندی
گذشتہ اکتوبر سے سیز فائر کے نفاذ کے باوجود یہاں کے مکینوں کے دلوں سے خوف دور نہیں ہو سکا۔ رمضان کے ابتدائی ایام میں بھی مختلف علاقوں میں غاصب اسرائیل کی جانب سے نئے قتل عام کی اطلاعات ملیں۔ غزہ میں وزارتِ صحت کے بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک براہِ راست فائرنگ یا نام نہاد محفوظ علاقوں میں غاصب اسرائیلی دشمن کی کارروائیوں کے نتیجے میں مسلسل شہادتیں اور زخمی ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی کے شمال اور مشرق میں نام نہاد ممنوعہ فوجی علاقہ اب بھی ہزاروں خاندانوں کو ان کے گھروں کو واپسی سے روک رہا ہے۔ بہت سے مکانات اب بھی اپنی جگہ کھڑے تو ہیں لیکن ان تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ پورے کے پورے محلے فاصلے سے دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے مالکان کو اپنے گھر کی دیواروں کو چھونے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
شمالی غزہ سے نصیرات کیمپ میں ہجرت کرنے والے پناہ گزین زیاد ضیر کہتے ہیں کہ رمضان اب اپنی اصل خوشیاں کھو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑے پیمانے پر بمباری میں کمی آئی ہے لیکن استحکام کا احساس اب تک واپس نہیں آیا۔ انہوں نے غمزدہ لہجے میں بتایا کہ وہ دوست جو رمضان کی راتوں کو رونق بخشتے تھے، اب سب جدا ہو چکے ہیں اور اجتماعی افطار کی محفلیں اب محض یادیں بن کر رہ گئی ہیں جنہیں وہ اپنے تنگ و تاریک خیمے میں بیٹھ کر دہراتے ہیں۔
گھر کے بدلے خیمہ
وسطی غزہ میں ام محمد الشافعی ایک معمولی سے چولہے کے سامنے اپنا سادہ سا افطار تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سال رمضان کی سب سے بڑی تلخی یہ ہے کہ وہ اس کا استقبال جبالیہ میں اپنے گھر کے بجائے ایک ایسے خیمے میں کر رہی ہیں جو دن کی تپش سے بچاتا ہے اور نہ ہی رات کی سردی سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپنی دو بہنوں اور دو دامادوں کی شہادت نے اس مہینے کو مزید تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ اب تو جدائی کا احساس ہر ہر جزو میں نمایاں ہے۔ رمضان جو کبھی رشتہ داروں سے ملاقاتوں اور صلہ رحمی کا موسم ہوا کرتا تھا، اب محض صبر اور انتظار کا موسم بن گیا ہے۔ یہاں تک کہ مبارکباد کے تبادلے بھی مختصر ہو گئے ہیں کیونکہ ہر گھر کی اپنی ایک المناک اور بوجھل داستان ہے۔
کھلے بازار اور خالی جیبیں
بازاروں میں کچھ چہل پہل تو لوٹ آئی ہے مگر خریداری کی سکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ طویل بے روزگاری اور آمدنی کے مستقل ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے خاندان شدید کسمپرسی کا شکار ہیں۔
شہرِ غزہ سے بے گھر ہونے والے فواد حجازی کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سال سے زائد عرصے سے روزگار کا ذریعہ منقطع ہونے کے بعد اب ان کا خاندان افطار کے لیے فلاحی کچن (لنگر خانوں) پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
مہنگائی نے اس سفاکیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، بالخصوص کھانا پکانے والی گیس کی شدید قلت نے حالات سنگین بنا دیے ہیں۔ غزہ میں اتھارٹی برائے پٹرولیم نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے جتنی مقدار میں ایندھن داخل ہوا ہے وہ ضروریات کا صرف ایک معمولی حصہ پورا کرتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ کھانا تیار کرنے کے لیے قدیم اور متبادل طریقے اپنانے پر مجبور ہیں۔
پرانی یادوں سے محروم رمضان
غاصب اسرائیلی دشمن کی اس نسل کشی اور جنگ سے پہلے غزہ میں رمضان کی راتیں سحر تک جاری رہتی تھیں؛ روشنیوں، محفلوں اور افطار کی دعوتوں کا ایک سماں ہوتا تھا۔ آج ترجیحات بدل کر پینے کے صاف پانی کے حصول، نایاب ادویات کی تلاش یا کسی نسبتاً کم خطرناک جگہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
اپنے آٹھویں دن میں داخل ہونے والا یہ رمضان غزہ پر تین سالہ مسلسل جنگ اور سفاکیت کا بوجھ لیے ہوئے ہے۔ لوگ آج بھی روزے رکھ رہے ہیں اور دینی شعائر پر سختی سے کاربند ہیں، لیکن وہ یہ سب کچھ اپنوں کو کھونے کے گہرے دکھ اور غیر یقینی مستقبل کے سائے میں کر رہے ہیں۔