غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی جہاد کے نائب سیکرٹری جنرل محمد الہندی نے غزہ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حال ہی میں تشکیل پانے والی نام نہاد امن کونسل کو ایک ایسا ڈرامہ قرار دیا ہے جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کونسل کے انعقاد سے جنگ کی سمت میں کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی فلسطینیوں کے خلاف جاری غاصب اسرائیلی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں کوئی کمی واقع ہوئی۔
الجزیرہ لائیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد الہندی نے کہا کہ اس کونسل کی بنیاد امریکی مکمل حاکمیت اور قابض اسرائیل کے لیے مکمل تحفظ کے فارمولے پر رکھی گئی ہے جبکہ فلسطینیوں کو ان کے مستقبل کے فیصلے سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فریم ورک میں فلسطینی نمائندگی محض علامتی ہے جو بغیر کسی خود مختاری یا سیاسی فیصلے کے محض ٹیکنوکریٹ کمیٹیوں کے ذریعے غزہ کی پٹی کے بلدیاتی امور چلانے تک محدود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیش کی گئی بصیرت مکمل طور پر قابض اسرائیلی موقف کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ یہ غزہ کی دوبارہ تعمیر کو مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے سے جوڑتی ہے۔ اس میں صہیونی فوجی انخلاء یا جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر کسی سنجیدہ احتساب کا ذکر نہیں ہے، جس میں گزرگاہوں کی بندش، امداد کی روک تھام اور خیموں و پورٹیبل کمروں کی ترسیل میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سرايا القدس کے قائدین کی شہادت
اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ سرايا القدس کے متعدد قائدین کی شہادت کے اثرات کے حوالے سے محمد الہندی نے کہا کہ قیادت کا بچھڑ جانا کبھی بھی فلسطینیوں کے ارادوں کو توڑ سکا ہے اور نہ ہی ان کی مزاحمت کو ختم کر سکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مزاحمت کا یہ راستہ دہائیوں پر محیط ہے اور شہداء کی ہر نسل کے بعد ایک ایسی نئی نسل ابھرتی ہے جو دشمن کے مقابلے کے لیے پہلے سے زیادہ پرعزم ہوتی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ دو سال سے جاری وسیع جنگ جس میں بنیادی ڈھانچے اور مزاحمتی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، اس سے عسکری طور پر کچھ اثرات ضرور مرتب ہوئے ہیں، لیکن عوامی پشت پناہی اور اپنی زمین سے وابستگی ہی اصل قوت کا سرچشمہ ہے۔
انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ طوفان الاقصی کے بعد مزاحمت اپنی زیادہ تر صلاحیتیں کھو چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فلسطینی عوام نے سنہ 1987ء کی انتفاضہ میں نہایت محدود وسائل کے باوجود قابض دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ صرف غاصب اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ اس مغربی اتحاد کے خلاف ہے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے اور وہی اسے عسکری و سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔
امریکی جانبداری اور مائیک ہاکابی کے بیانات
محمد الہندی نے واضح کیا کہ ان کی تحریک امریکہ پر بھروسہ نہیں کرتی، چاہے وہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دور ہو یا ان کے پیشرو جو بائیڈن کا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کے لیے امریکی جانبداری مستقل اور سٹریٹجک ہے۔ بعض مفاہمتوں کو محض عام شہریوں کے خلاف جاری قتلِ عام کو روکنے کے لیے قبول کیا گیا، نہ کہ امریکی ثالث پر اعتماد کی وجہ سے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی سے ہٹ کر کوئی بھی انتظامات جامع فلسطینی قومی مذاکرات کے ذریعے طے ہونے چاہئیں۔
تل ابیب میں امریکی سفیر مائیک ہاکابی کے نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صیہونی منصوبے کے جوہر اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بیانات امریکی انتظامیہ میں ایوینجیکل فرقوں کے اثر و رسوخ کو بے نقاب کرتے ہیں، جبکہ ایسے بیانات پر کسی واضح سرکاری مذمت کا نہ ہونا بھی معنی خیز ہے۔
علاقائی کشیدگی کی وارننگ
محمد الہندی نے کہا کہ غاصب اسرائیل کو غزہ اور لبنان میں فوجی کارروائیوں کے لیے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اور امداد و تعمیرِ نو کے معاملات کو سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تعمیرِ نو کے بدلے مزاحمت کا اسلحہ چھوڑنے کی شرط کو ایک بڑا وہم قرار دیا اور اس کے ثبوت کے طور پر مغربی کنارے کی صورتحال پیش کی جہاں بھاری اسلحہ نہ ہونے کے باوجود غاصبانہ کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ قابض دشمن کے ساتھ یہ کشمکش طویل مدتی ہے اور فلسطینیوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کا نتیجہ مزید جبری بے دخلی اور مظالم کی صورت میں نکلے گا۔ انہوں نے ایرانی ساحلوں کے سامنے امریکی فوجی صف بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک فلسطینی اپنی زمین اور مزاحمت کے راستے پر قائم ہیں، کوئی بھی علاقائی کشیدگی قضیہ فلسطین کو ختم نہیں کر سکتی۔
