Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

انسانی تنظیموں پر قابض پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی احتجاج

یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سترہ بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے غاصب اسرائیل کی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں 37 غیر سرکاری تنظیموں کا کام بند کرنے کے غاصبانہ فیصلے کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پہلے سے ابتر انسانی صورتحال کے پیشِ نظر اس فیصلے کے شہریوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

تنظیموں نے اپنی پٹیشن میں کہا ہے کہ قابض حکام نے انہیں 30 دسمبر سنہ 2025ء کو مطلع کیا تھا کہ ان کی رجسٹریشن کی مدت ختم ہو چکی ہے اور رجسٹریشن کی تجدید کے لیے 60 دن کی مہلت دیتے ہوئے اپنے فلسطینی ملازمین کے ناموں کی فہرستیں فراہم کرنے کی شرط رکھی تھی۔ حکام نے واضح کیا تھا کہ حکم کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں یکم مارچ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ان کی تمام سرگرمیاں روک دی جائیں گی۔

ان تنظیموں میں جن پر پابندی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، آکسفیم، نارویجن ریفیوجی کونسل، اور کیئر انٹرنیشنل سمیت دیگر انسانی تنظیمیں شامل ہیں جو برسوں سے فلسطینی آبادی کو امداد اور ریلیف فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

پٹیشن دائر کرنے والی تنظیموں نے وضاحت کی کہ اس فیصلے پر زمین پر عملدرآمد پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، جس کے تحت انسانی امداد کی ترسیل روک دی گئی ہے اور غیر ملکی ملازمین کو ویزوں کے اجراء سے انکار کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی زندگیوں سے جڑے اہم پروگرام معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

تنظیموں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جامع عدالتی جائزے کی تکمیل تک بندش کے اقدامات کو معطل کرنے کا فوری حکم جاری کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غاصب اسرائیل کے یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت قابض طاقت کی ذمہ داریوں کے منافی ہیں، خاص طور پر اس کی یہ ذمہ داری کہ وہ مقبوضہ آبادی تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائے۔

تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مقامی ملازمین کے نام ظاہر کرنے کے مطالبے پر عملدرآمد سے ان کی جانوں کو ممکنہ انتقامی کارروائیوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، انسانی غیر جانبداری کا اصول مجروح ہو گا اور یورپی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی بھی خلاف ورزی ہو گی جو حساس ذاتی معلومات شیئر کرنے پر پابندی لگاتے ہیں۔

پٹیشن کے متن میں کہا گیا ہے: “انسانی تنظیموں کو تنازع کے ایک فریق کے لیے معلومات جمع کرنے والے بازو میں تبدیل کرنا غیر جانبداری کے اصول کے سراسر منافی ہے اور یہ انسانی ہمدردی کے کاموں پر مقامی کمیونٹیز کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے”۔

درخواست گزاروں نے اشارہ کیا کہ انہوں نے غاصب اسرائیلی حکام کو عملی متبادل پیش کیے ہیں، جن میں آزادانہ آڈٹ کے طریقہ کار یا عطیہ دہندگان کی زیرِ نگرانی تصدیقی نظام کو اپنانا شامل ہے تاکہ مقامی ملازمین کو خطرے میں ڈالے بغیر شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

تنظیموں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا انسانی کردار ناقابلِ بدل ہے، کیونکہ وہ مشترکہ طور پر غزہ میں خوراک کی نصف سے زیادہ امداد فراہم کر رہی ہیں اور تقریباً 60 فیصد فیلڈ ہسپتال چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کے علاج کے تمام تر انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ آبادی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دے گی، خاص طور پر جب غزہ کی پٹی پر مسلسل پابندیاں عائد ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan