غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں ماہِ رمضان کبھی محض ایک روایتی تقریب نہیں رہا، بلکہ یہ ایک بھرپور سماجی، روحانی اور اقتصادی بہار ہوا کرتی تھی جس میں زندگی کی تال بدل جاتی تھی۔ افطار سے قبل گلیوں میں زندگی مسکراتی تھی، بازاروں میں رونقوں کا ہجوم ہوتا تھا اور دسترخوان اتنے ہی وسیع ہو جاتے تھے جتنے کہ ان غیرت مند فلسطینیوں کے دل۔
تاہم سنہ 2026ء کا یہ رمضان ایک ایسے لہو رنگ اور بوجھل موڑ پر آیا ہے جہاں غاصب اسرائیل کی مسلط کردہ وحشیانہ جنگ، مسلسل نسل کشی اور سفاکیت کے مہیب سایوں نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا ہے۔ اب یہاں کے ستم رسیدہ مکینوں کی لرزتی ہوئی زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ “رمضان کبھی ایسا نہ تھا”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس مجموعی کرب کی دہائی ہے جو آج غزہ کے ہر باسی کا مقدر بنا دی گئی ہے۔
یہ تبدیلی صرف ویران شاہراہوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ہر رمق اور سسکتی ہوئی سانس میں سرایت کر چکی ہے۔ اجڑے ہوئے بازاروں سے لے کر ٹوٹے ہوئے دلوں تک، ہر سو ایک ہی داستانِ غم رقم ہے۔
حسرتوں کے دسترخوان اور ادھوری افطار
غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں خیمہ زن ایک پناہ گاہ میں مقیم پانچ بچوں کی کسمپرس ماں، 45 سالہ ام رائد ابو سلطان کہتی ہیں کہ اس سال رمضان میں جو سب سے پہلی وحشت محسوس ہوئی وہ “تیاری کے احساس کا قتل” ہے۔
وہ خون کے آنسو روتے ہوئے بتاتی ہیں: “ہم ہفتوں پہلے رمضان کا استقبال کرتے تھے، گھر کی زینت بڑھاتے، بچوں کے لیے خوشیاں خریدتے اور ضیافتوں کی یادگاریں بناتے تھے۔ آج کوئی منصوبہ بندی نہیں، بس موت کے سائے میں جینے کی ایک ناکام کوشش ہے”۔
وہ بتاتی ہیں کہ جن دسترخوانوں پر کبھی برکتیں اور نعمتیں رقص کرتی تھیں، اب وہاں صرف بھوک کی تپش ہے۔ ان کا کہنا ہے: “ہماری تمام تر توجہ صرف پیٹ کی آگ بجھانے پر ہے، بچے کبھی کبھار ان پکوانوں کا سوال کرتے ہیں جن کے وہ عادی تھے، لیکن اب ان معصوموں کی آنکھیں بھی حالات کی سفاکیت کو سمجھنے لگی ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب افطار کے مقدس لمحے بھی جان لیوا تشویش سے بھرے ہوتے ہیں: “ہم افطار کے وقت اگلے دن کی زندگی کی دعا مانگتے ہیں، پورے مہینے کا تصور بھی محال ہے”۔ ان کے بقول یہ المیہ صرف مادی نہیں بلکہ سماجی زندگی کا بھی زوال ہے، کیونکہ غاصب اسرائیل کی بمباری نے خاندانوں کو منتشر کر دیا ہے اور اپنوں کی قربت کی جگہ اب اجنبیت اور تنہائی نے لے لی ہے۔
موسمِ بہار سے محروم اجڑے بازار
دیر البلح کے تباہ حال بازار میں مٹھائی کی دکان کے مالک ابو احمد القاضی بتاتے ہیں کہ رمضان ان کی سالانہ خوشیوں اور رزق کا عروج ہوتا تھا۔
انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بھرائی ہوئی آواز میں بتایا: “گذشتہ برسوں میں ہم رمضان میں مٹھائیاں تیار کرتے تھکتے نہیں تھے، بازار میں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔ لوگ مٹھائیوں کو خوشی اور استقامت کی علامت سمجھتے تھے”۔
مگر اس سال خریداروں کی جگہ حسرتیں کھڑی ہیں اور ترجیحات لہو میں ڈوب چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: “لوگ صرف جینے کے لیے ناگزیر روٹی کے ٹکڑے تلاش کر رہے ہیں۔ جس کے پاس کچھ جمع پونجی باقی ہے، وہ بھی غاصب اسرائیل کی مسلط کردہ غیر یقینی صورتحال اور بھوک کے خوف سے اسے خرچ کرنے کی ہمت نہیں پاتا”۔ ان کا ماننا ہے کہ اس معاشی قتلِ عام نے غزہ کی اس معیشت کی کمر توڑ دی ہے جو کبھی رمضان کی راتوں میں چراغاں کی طرح روشن ہوا کرتی تھی۔
عقیدت و عبادت: ٹوٹے ہوئے محرابوں میں سجدے
روحانی محاذ پر، دیر البلح کی ایک مسجد کے امام سميح ابوالعطا، جو مسجد پر غاصب دشمن کی بمباری کے بعد اب ایک کھلے آسمان تلے مٹی پر نمازِ تراویح کا اہتمام کر رہے ہیں، بتاتی ہیں کہ زخموں سے چور ہونے کے باوجود فلسطینیوں کا جذبۂ عبودیت متزلزل نہیں ہوا۔
وہ کہتے ہیں: “نفسیاتی کرب اور سفاکیت کے اس دور میں لوگ خدا کی پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ جب زمین ان پر تنگ کر دی گئی ہے، تو نماز ہی وہ واحد آسمانی سہارا ہے جو انہیں ٹوٹنے سے بچائے ہوئے ہے”۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منبر و محراب سے اب روایتی نصائح کے بجائے پیکرِ صبر، باہمی ایثار اور غاصب کے خلاف فولادی ثابت قدمی کے درس دیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: “ہم اس کربناک حقیقت کو بیان کرتے ہیں جس سے میرا ہر نمازی گزر رہا ہے، تاکہ ہمارا خطاب ان کے رستے ہوئے زخموں پر مرہم رکھ سکے”۔
معصوم ذہنوں پر نقش ہوتے ہولناک اثرات
دوسری جانب ماہرِ نفسیات عبداللہ الخطیب کا کہنا ہے کہ رمضان فلسطینی بچوں کی یادوں کا سب سے خوبصورت حصہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب اسے مسخ کیا جا رہا ہے۔
وہ وضاحت کرتے ہیں: “جب روایات کو بارود اور بھوک سے بدل دیا جائے، تو بچہ ایک ایسی گہری محرومی کا شکار ہوتا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اسے احساس ہے کہ اس کا بچپن چھین لیا گیا ہے، چاہے اس کے پاس ان جذبات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہ ہوں”۔
وہ اس ہولناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلسل خوف اور مٹتے ہوئے گھروں نے بچوں کے ذہنوں میں رمضان کے تقدس کو عدم تحفظ اور موت کے سائے سے جوڑ دیا ہے، جو کہ ایک نسل کے نفسیاتی قتلِ عام کے مترادف ہے۔
