کراچی – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام مقامی بینکوئٹ میں منعقدہ سالانہ القدس کانفرنس اور افطار وحدت سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، ہندو، سکھ اور مسیحی مذاہب کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت تاجر برادری، وکلاء ، اساتذہ اور طلباء رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ عالمی یوم القدس منایا جائے گا۔کانفرنس کا انعقاد فلسطین فائونڈیشن پاکستان کی ملک بھر میں جاری مہم رمضان فلسطین کے ساتھ کے عنوان سے کیا گیا تھا جس سے فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم،جماعت اسلامی کے نائب امیر مسلم پرویز،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما علامہ حسن ظفر نقوی،مولانا باقر زیدی، شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ شبیر میثمی،پاکستان مسلم لیگ نواز کے پیر ازہر علی ہمدانی،پاکستان تحریک انصاف کے اسرار عباسی، معروف عالم دین مولانا اصغر شہیدی، جمعیت علماء پاکستان کے علامہ عقیل انجم، علامہ قاضی احمد نورانی،جے یو آئی (س) کے حافظ احمد علی،پاکستان عوامی تحریک کے رائو کامران،علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ امین انصاری،بشیر سدوزئی، ہندو اسکالر منوج چوہان، مسیحی رہنما پاسٹر رحمت لال، پاسٹر عمانئیول صوبہ، سکھ رہنما سردار انیل سنگھ ، سردار ارجن سنگھ، عرم بٹ، دانیال جیلانی اور دیگر نے خطاب کیا۔
کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے، جن میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ القدس کے پروگراموں میں شرکت کریں اور مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کریں۔ مقررین نے کہا کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں اور اسے فی الفور بند ہونا چاہئیے، انہوںنے کہاکہ نام نہاد امن کونسل بنا کر غزہ کو تجارتی منصبوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہاہے جس کو پاکستانی عوام تسلیم نہیں کریں گے۔ اانہوںنے کہا کہ ٹرمپ کا بنایا گیا بوڑد آف پیس فلسطینی مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کی ایک سازش ہے۔ نام نہاد امن کونس کافورم درحقیقت فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت کو کمزور کرنے اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس بورڈ سے اپنی شمولیت واپس لے اور واضح مؤقف اختیار کرے کہ پاکستان کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بنے گا جو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے منافی ہو۔
رہنمائوںنے کہاکہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام غاصب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایک جنگی مجرم سمجھتے ہیں اور اس سےسخت نفرت کرتے ہیں جبکہ 100فیصد عوام نیتن یاہو کو سخت ناپسند کرتے ہیں، گیلپ سروے میں حقائق اور نتائج کو توڑ موڑ کر پاکستان میں اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کی گھنائونی سازش کی گئی ہے۔
رہنماؤں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ قائم سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کریں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت فلسطینی عوام کی عملی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینی عوام کی جدوجہد سے انحراف ہے اور اس سے صہیونی ریاست کو مزید جارحیت کا حوصلہ ملتا ہے۔مقررین نےفلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں اپنی سرزمین کے دفاع اور اسرائیلی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ان کو اپنی آزادی کے لیے ہر جائز اور قانونی حق حاصل ہے۔
کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی مہاجرین کا حقِ واپسی ایک ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ تاریخی فلسطین میں ایک آزاد و شفاف ریفرنڈم کرایا جائے جس میں تمام اصل باشند بشمول بیرونِ ملک مقیم فلسطینی مہاجرین اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔
کانفرنس میں علامہ مرزا طاہر، پیر سید اشرفی، خلیل نورانی، علامہ نثار قلندری، علامہ علی کامران عابدی، علامہ بدر الحسنین، علامہ صادق جعفری، علامہ جواد زیدی، علامہ حیات نجفی، مفتی وحید یونس، شکیل قاسمی، ڈاکٹر محبوب نوناری،ڈاکٹر صدف مصطفٰی، ڈاکٹر ثوبیہ عرفان، ڈاکٹر معروف، ڈاکٹر ذیشان اقبال، ڈاکٹر فضلی حسین، ڈاکٹر بلال سیالوی، ڈاکٹر مدد علی ، ڈاکٹر عامر حسین، مولانا حیدر عباس، حسن رضا، دانیال کاظمی، معاذ نظامی، سید شبر رضا، ابراھیم چترالی سمیت متعدد شخصیات اور رہنما شریک تھے۔