Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

امریکی صحافی ٹکر کارلسن کی امریکہ-اسرائیل روابط پر شدید تنقید

نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے امریکہ اور غاصب اسرائیل کے تعلقات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی سرحدوں سے باہر امریکہ کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے امریکی ووٹرز کے مفادات پر تل ابیب کے مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اسرائیل کے دورے کے بعد سعودی چینل ’روتانا خلیجیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کے تعلقات واشنگٹن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ غاصب اسرائیل ہماری سرحدوں سے باہر ہمارے لیے سب سے بڑا بوجھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس کا ذمہ دار صہیونی حکومت کو نہیں ٹھہراتے کیونکہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹکر کارلسن نے اشارہ کیا کہ غاصب اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو ہر ممکن طریقے سے اپنے ملک کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی قائدین اس صورتحال کی اجازت کیوں دے رہے ہیں۔

انہوں نے امریکہ کے اندر موجود ان دباؤ گروپس کی طرف اشارہ کیا جو امریکی وسائل کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی جنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غاصب اسرائیل کی خاطر ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا امریکہ کے مفاد میں کیسے ہو سکتا ہے۔؟

ٹکر کارلسن کا ماننا ہے کہ یہ رجحان نہ تو امریکہ کے مفاد میں ہے نہ خطے کے ممالک کے لیے اور نہ ہی خود غاصب اسرائیل کے حق میں ہے کیونکہ تل ابیب اپنے طویل مدتی مفادات کو صحیح طرح سے نہیں سمجھ رہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک معیشت، قومی اتحاد اور ہجرت جیسے سنگین بحرانوں کا شکار ہے اور امریکی قائدین سے یہ تقاضا ہے کہ وہ بنجمن نیتن یاھو کے مطالبات میں مگن رہنے کے بجائے بیرونی دباؤ کو مسترد کریں۔

ٹکر کارلسن نے ان امریکی قائدین کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کی وفاداری اپنے ملک سے زیادہ غاصب اسرائیل کے ساتھ ہے، انہوں نے اسے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کا اصل مسئلہ قرار دیا۔

انہوں نے غاصب اسرائیل کے حامی سینیٹرز ٹیڈ کروز اور لنڈسے گراہم جیسے رہنماؤں پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنے ووٹرز کے مطالبات کے مقابلے میں غاصب اسرائیل کے مطالبات کو مقدم رکھتے ہیں۔

ٹکر کارلسن کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اشارے دے رہا ہے۔ دوسری جانب تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب مداخلت اور نظام کی تبدیلی کے لیے بہانے تراش رہے ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ٹکر کارلسن کے یہ موقف غاصب اسرائیل کے لیے نامزد امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ساتھ ان کے انٹرویو کے بعد سامنے آئے۔ مائیک ہکابی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں غاصب اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے وسیع حصوں پر قبضے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ مائیک ہکابی نے اس جارحیت کے لیے مذہبی تشریحات اور ان بے بنیاد دعوؤں کا سہارا لیا کہ یہ نیل سے فرات تک پھیلا ہوا گریٹر اسرائیل ان کا توراتی حق ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan