تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رمضان المبارک صبر، استقامت، عدل اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا مہینہ ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآنِ حکیم نے ظلم کے خلاف قیام اور حق کی سربلندی کا درس دیا۔ ایسے وقت میں جب فلسطین اور لبنان کے مظلوم عوام مسلسل جارحیت، محاصرہ اور انسانی المیوں کا سامنا کر رہے ہیں، پاکستان کے علماء، دانشوروں، سیاست دانوں اور موثر طبقات کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ ایک واضح، مدلل اور اصولی موقف اختیار کریں۔پاکستان کی نظریاتی اساس ہی حقِ خود ارادیت اور مظلوم اقوام کی حمایت پر قائم ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے مسئلۂ فلسطین پر جو غیر متزلزل موقف اختیار کیا، وہ آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مگر حالیہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اس موقف کو مزید قوت، جرات اور تسلسل کے ساتھ ہر سطح پر اجاگر کیا جائے۔
غاصب صیہونی ریاست اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر فلسطین اور لبنان پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ و لبنان میں روزانہ معصوم انسانوں کو قتل کیا جا رہاہے۔اس تمام تر صورتحال میں کہ جہاں پہلے ہی اسپتالوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تھا ۔اب ادویات، سرجیکل سامان اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے۔اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں اور طبی ذرائع کے مطابق 70ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔اٹھارہ ہزار سے زائد بچے شہید یا شدید زخمی ہوئے، جب کہ ہزاروں یتیم ہو چکے ہیں۔25ہزار سے زائد بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین یا خاندان سے بچھڑ چکے ہیں۔تقریباً 18 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو غزہ کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔60 فیصد سے زائد رہائشی عمارتیں تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو چکی ہیں۔18ہزارسے زائد افراد مستقل معذوری کی کیفیت میں ہیں اور بیرونِ ملک علاج سے محروم ہیں۔یہ محض اعداد نہیں، بلکہ ایک نسل کی بقا کا سوال ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ میں خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ ہسپتالوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، طبی عملہ شہید ہوا، اور اب ادویات، سرجیکل سامان اور ایندھن کی شدید کمی نے نظامِ صحت کو مفلوج کر دیا ہے۔بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنیوا کنونشن، جنگ کے دوران طبی مراکز اور شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
اسکولوں اور جامعات کی بڑی تعداد تباہ یا بند ہو چکی ہے۔ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ تعلیمی ادارے پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ صرف عمارتوں کی تباہی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل پر حملہ ہے۔نفسیاتی صدمات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بچوں میں ڈپریشن، خوف، نیند کی خرابی اور شدید ذہنی دباؤ عام ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری بحالی اور نفسیاتی معاونت فراہم نہ کی گئی تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہیں گے۔
لبنان میں بھی اسرائیلی افواج کی جانب سے فضائی و زمینی خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ جنوبی لبنان میں سرحدی کشیدگی اور ڈرون حملے خطے کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل رہےہیں۔یہ طرزِ عمل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی کھلی توہین ہے۔ اگر جنگ بندی کو سنجیدگی سے نافذ نہ کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق 51 مقبوضہ اقوام کو اپنے دفاع کا حق دیتی ہے۔ فلسطین و لبنان میں مزاحمتی تحریکیں حماس اور حزب اللہ اسی حق کے تحت اپنی سرزمین کے دفاع کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ کسی بھی مزاحمت کو محض دہشت گردی قرار دینا، قبضے اور جبر کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔امن کی کوئی بھی کوشش اگر مقبوضہ عوام کے حقِ خود ارادیت کو نظر انداز کرے تو وہ امن نہیں بلکہ جبر کو دوام دینے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
گزشتہ برسوں میں امریکی قیادت میں بعض یکطرفہ اقدامات نے مسئلۂ فلسطین کو مزید پیچیدہ کیا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا اور یکطرفہ ڈیل آف دی سنچری پیش کی گئی جس میں فلسطینی قیادت کی حقیقی نمائندگی کو نظر انداز کیا گیا۔ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کے بجائے طاقت کی سیاست کو فروغ دیتے ہیں۔ اگر کوئی امن کونسل یا بورڈ آف پیس فلسطینی عوام کی مرضی اور نمائندگی کے بغیر فیصلے کرے، یا مزاحمت کو یکطرفہ طور پر غیر مسلح کرنے کی شرط عائد کرے، تو یہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہو گا۔
مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لئے ضروری ہے کہ ان نقاط پر توجہ دی جائے۔ فلسطینی عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا جائے۔حقِ واپسی کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں۔ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔تمام سیاسی فیصلے فلسطینی قیادت اور عوام کی مشاورت سے ہوں۔
پاکستان کا قیام ہی اصولِ خود ارادیت پر ہوا۔ لہٰذا حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ہے کہ عالمی فورمز پر موثرسفارتی مہم چلائے۔انسانی امداد میں اضافہ کرے۔مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ لائحۂ عمل ترتیب دے۔ایسے کسی بھی فورم سے فاصلہ اختیار کرے جو قبضے کو دوام بخشے۔
ہمارے واضح مطالبات کیا ہونے چاہئیں تا کہ رائے عامہ بنائی جائے ۔ غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بلا تاخیر مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے اور تمام فوجی کارروائیاں بند کی جائیں۔جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات ہوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کے مطابق نیتن یاہو کو گرفتار کیا جائے۔
فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور حق واپسی کو تسلیم کیا جائے۔کسی بھی امن منصوبے، کانفرنس یا معاہدے میں فلسطینی قیادت اور عوام کی نمائندگی کو بنیادی شرط قرار دیا جائے۔خوراک، ادویات، ایندھن اور تعمیر نو کے سامان کی فوری اور محفوظ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔
لبنان کی سرزمین پر دراندازی، فضائی خلاف ورزیوں اور دھمکی آمیز کارروائیوں کو فوری روکا جائے۔ایسے کسی بھی فورم یا منصوبے کو مسترد کیا جائے جو قابض قوت کے مفادات کو تحفظ دے اور مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی یکطرفہ کوشش کرے۔ امن کی بنیاد انصاف اور قبضے کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔
ٹرمپ کے گذشتہ دور صدارت میں اختیار کی گئی وہ پالیسیاں جنہوں نے بین الاقوامی قوانین کو کمزور کیا اور اسرائیلی توسیع پسندی کو تقویت دی، انہیں عالمی سطح پر مسترد کیا جائے۔ طاقت کی سیاست کے بجائے قانون کی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔
مسلمان اور عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور عسکری تعلقات کا خاتمہ کریں۔نارملائزیشن کے معاہدوں کو منسوخ کیا جائے اور ابراھیمی معاہدے میں شامل حکومتیں اپنا فیصلہ واپس لیں۔فلسطینی عوام کے ساتھ عملی، سیاسی اور اقتصادی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔
پاکستان عالمی فورمز پر مؤثر سفارتی مہم چلائے، انسانی امداد میں اضافہ کرے اور مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ لائحۂ عمل ترتیب دے۔
غزہ کے لئے نام نہاد امن کونسل میں شمولیت کا فیصلہ واپس لیا جائے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہم اس مقالہ کے ذریعہ علماء، دانشوروں، سیاسی قائدین اور تمام بااثر طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ اس بیانیہ کو عام کریں، منابر و مجالس میں اجاگر کریں، اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔