استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ترک حکام نے قابض اسرائیلی فوج میں شامل ان خواتین اہلکاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقاتی مہم شروع کر دی ہے جو ترکیہ کی شہریت بھی رکھتی ہیں۔ یہ اقدام قابض اسرائیلی فوج کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اس کی صفوں میں دوہری شہریت رکھنے والے 112 فوجی شامل ہیں۔
استنبول میں پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان ترک خواتین کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جو اسرائیلی شہریت بھی رکھتی ہیں۔ ان خواتین پر ان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے نشر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائیوں اور نسل کشی میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے قابض اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والی دو ترک نژاد خواتین اہلکاروں کے نام اور تصاویر عام کی ہیں، جبکہ ان کے اہل خانہ پر قابض اسرائیل کے حق میں پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اسی حوالے سے ترکیہ کے ذرائع نے ایک ایسی خاتون فوجی کی شناخت ظاہر کی ہے جس کے پاس اسرائیل اور ترکیہ کی شہریت ہے اور اس نے سنہ 2022ء سے سنہ 2024ء کے درمیان گولان بریگیڈ میں خدمات انجام دیں۔
ترک کارکنوں نے ایک خاتون فوجی کے والد کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات نقل کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ اس شخص نے قتل و غارت گری کرنے والی فوج میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہونے والوں کے اعزاز میں باقاعدہ عسکری ضیافت کا اہتمام کیا۔ قابض اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے ان افراد نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کے ذریعے انکشاف کیا کہ وہ بعض اوقات ترکیہ میں ہونے والی مختلف تقاریب میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔
ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ سیاحوں کے روپ میں قاتل فوجی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ ملک خون کے پیاسے قاتلوں کے لیے آزادانہ گھومنے کی پناہ گاہ ہے اور نہ ہی نسل کشی کرنے والوں کی جگہ۔ ہم ان مجرموں کو یہاں وہ پیسہ خرچ کر کے اپنا حوصلہ بلند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو انہوں نے معصوموں کی نسل کشی کر کے کمایا ہے۔
یہ پیش رفت ترکیہ میں سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے گروہوں کی طرف سے چلائی جانے والی عوامی اور قانونی مہم کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جس کا مقصد قابض اسرائیلی فوج میں شامل دوہری شہریت رکھنے والے افراد کا محاسبہ کرنا ہے۔ یہ مہم ان سرکاری اعداد و شمار کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع ہوئی جن میں اسرائیلی فوج میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ کے پارلیمنٹ ممبران، بالخصوص “حزب الدعوة الحرة” (ہدا پار) کے نمائندے ایک ایسے قانون کی منظوری کے لیے سرگرم ہیں جس کے تحت قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر نسل کشی کی سفاکیت میں ملوث ہونے والے ہر دوہری شہریت کے حامل شہری کی ترک شہریت منسوخ کر دی جائے گی۔ اس مجوزہ قانون میں ایسے افراد کی ترکیہ میں موجود جائیدادیں ضبط کرنے اور انہیں عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
