غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے شہریوں نے رمضان المبارک کے پہلے جمعے کی نماز تباہ شدہ مساجد اور مسمار شدہ عمارتوں کے ملبے پر ادا کی۔ یہ نماز ایک ایسے وقت میں ادا کی گئی جب غزہ کے باسی انتہائی سنگین معاشی حالات اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ قابض اسرائیل کی افواج مختلف علاقوں میں بمباری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نمازیوں نے بڑی تعداد میں تباہ شدہ مساجد کے گرد و نواح میں جمع ہو کر ان کے ملبے پر نماز قائم کی اور جمعہ کے خطبے سنے جن میں صبر اور باہمی ہمدردی پر زور دیا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق غزہ شہر میں واقع مسجد الکنز استقامت کی علامت بن گئی ہے جہاں متعدد محلوں سے نمازی نماز کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ یہ منظر تباہی اور محاصرے کے باوجود یہاں کے باسیوں کا اپنی مذہبی شعائر سے گہری وابستگی کا عکاس ہے۔
نمازوں کا یہ سلسلہ تاریخی اور متاثرہ مساجد تک پھیل گیا جن میں مسجد عمری بھی شامل ہے جبکہ منہدم شدہ مساجد کے متبادل کے طور پر خیموں اور ترپالوں کی مدد سے عارضی مصلے بھی قائم کیے گئے۔
مبصرین کے مطابق رمضان کے دوران نمازوں اور تراویح میں یہ بھرپور عوامی شرکت سماجی سطح پر اپنی مذہبی اور روحانی شناخت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل تعمیراتی مواد اور بڑے خیموں کی ترسیل پر پابندی لگا رہا ہے جس سے عبادت گاہوں کی مرمت کی کوششیں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
میدانی شہادتیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اہل غزہ ہر حملے اور جارحیت کے بعد عبادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ابتدائی اور سادہ وسائل سے تباہ شدہ مساجد کی بحالی کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ روایت ان پابندیوں کے باوجود مذہبی زندگی کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔
غزہ میں وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیلی افواج نے حالیہ جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں موجود کل 1244 مساجد میں سے 1109 کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے نے دو سال تک جاری رہنے والی اس ہولناک جنگ کا خاتمہ کیا جس میں فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 72,069 فلسطینی شہید اور 171,728 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ شہری بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے اس وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر و بحالی کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا ہے۔
