مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے آج بروز جمعہ رمضان المبارک کے پہلے جمعے کے موقع پر مغربی کنارہ کے باسیوں کی قبلہ اول مسجد اقصیٰ آمد پر سخت ترین پابندیاں اور رکاوٹیں عائد کر دیں۔
عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے ایک خصوصی مقناطیسی کارڈ (میگنیٹک کارڈ) متعارف کروایا ہے جس کے تحت مغربی کنارہ سے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ آنے والے ہر فلسطینی کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنی رہائش گاہ کے قریب مخصوص سکیورٹی پوائنٹس پر تلاشی کے دوران اسے اسکین کروائے۔
قابض اسرائیلی فوج نے مغربی کنارہ کے درجنوں شہریوں کو مقبوضہ بیت المقدس پہنچنے سے روک دیا جبکہ مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا چوکی پر صحافتی نامہ نگاروں اور طبی عملے کے کام میں بھی شدید رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
قابض اسرائیلی اہلکاروں نے قلندیا چوکی پر 4 پیرا میڈیکس کو حراست میں لے لیا اور مقبوضہ بیت المقدس کے گردونواح میں فوجی اقدامات مزید سخت کر دیے۔
رمضان المبارک کے دوران نمازیوں پر قدغنیں لگانے کے سلسلے میں قابض اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مغربی کنارہ کے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو ہفتہ وار بنیادوں پر مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دے گا جبکہ مسجد میں داخلے کے خواہشمندوں پر کڑی شرائط بھی عائد کر دی گئی ہیں۔
نئی پابندیوں کے تحت داخلہ صرف 55 سنہ سے زائد عمر کے مردوں، 50 سنہ سے زائد عمر کی خواتین اور 12 سنہ تک کے بچوں تک محدود ہوگا بشرطیکہ وہ اپنے کسی قریبی خونی رشتہ دار کے ہمراہ ہوں۔
قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے عائد کردہ تمام تر پابندیوں کے باوجود رمضان المبارک کے دوسرے روز تقریباً 60 ہزار نمازیوں نے مسجد اقصیٰ میں نمازِ عشاء اور تراویح ادا کی۔
قابض اسرائیل نے عشاء اور تراویح کے وقت سے عین قبل باب السلسلہ پر نوجوانوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا اور یہاں تک کہ افطار کے لیے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کھانا لانے والے شہریوں کے لیے بھی سخت ترین شرائط لاگو کر دی گئیں۔
دوسری جانب فلسطینی اور مقدسی حلقوں کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر جمع ہونے، وہاں پہنچنے کے لیے رخت سفر باندھنے اور اعتکاف و رباط کو یقینی بنانے کی اپیلیں کی گئی ہیں تاکہ قابض اسرائیل کی ان سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے جن کا مقصد مسجد اقصیٰ کو نمازیوں سے خالی کر کے اسے فلسطینی ماحول سے الگ تھلگ کرنا ہے۔
