مغربی کنارہ/ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے شہروں اور پناہ گزین کیمپوں میں گذشتہ رات سے لے کر آج جمعہ کی علی الصبح تک میدانی حالات میں شدید تناؤ دیکھا گیا۔ یہ کشیدگی قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی پے در پے چھاپہ مار کارروائیوں اور مختلف علاقوں بالخصوص وادی اردن کے شمالی حصوں اور نابلس کے مشرقی علاقوں میں آباد کاروں کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔
شمالی علاقے میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیاں طوباس شہر، عقابا قصبے اور جنوب میں واد الفارغہ گاؤں میں داخل ہوئیں جہاں فوجیوں نے شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔
اس کے ساتھ ہی یہودی آباد کاروں نے وادی اردن کے شمالی علاقے میں حمامات المالح پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے کے دوران شہریوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور علاقے کی کونسل کے سربراہ کو براہ راست تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد رہائشیوں کو ہراساں کرنا اور انہیں اپنی زمینوں سے زبردستی بے دخل کرنا تھا۔
نابلس میں قابض اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے شہر کے شمال مغرب میں بزاریا قصبہ پر چھاپہ مارا اور المربعہ چوکی سے ہوتے ہوئے عین کیمپ کے مغربی علاقے کی طرف پیش قدمی کی۔ تلاشی کی ان کارروائیوں کے دوران قابض فوج نے بڑے پیمانے پر ساؤنڈ بموں کا استعمال کیا۔
دوسری جانب، نابلس کے شمال مشرق میں عین شبلی قصبہ کے قریب العماوی نامی مقام پر آباد کاروں نے اپنی غنڈہ گردی جاری رکھی۔ قابض اسرائیل کے فوجیوں کی پشت پناہی میں نہتے شہریوں کے گھروں پر حملے کیے گئے جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا۔
طولکرم میں قابض فوج کی کارروائیوں کا مرکز عتیل، دیر الغصون، زیتا، علار اور صیدا کے قصبے رہے۔ قابض اسرائیلی فوج نے گھروں پر چھاپوں کے دوران صحافی ہمام عتیلی کو عتیل قصبہ میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ قابل ذکر ہے کہ انہیں فلسطینی اتھارٹی کے عقوبت خانوں سے 441 دن کی قید کے بعد محض دو روز قبل ہی رہا کیا گیا تھا۔
قابض اسرائیلی فوج نے علار قصبہ میں ایک نوجوان ودیع ماهر قشوع کو بھی اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا۔
مغربی کنارہ کے جنوبی حصے میں قابض فوج نے الخلیل میں اپنی موجودگی بڑھاتے ہوئے الفوار کیمپ، ریحیہ اور بیت امر کے قصبوں سمیت صافا کے علاقے پر دھاوا بولا۔ فوجیوں نے سخت سکیورٹی اقدامات کے سائے میں متعدد گھروں کی تلاشی لی اور وہاں توڑ پھوڑ کر کے تباہی مچائی۔
ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دائرے میں بیت لحم بھی شامل رہا، جہاں مشرق میں جناتہ العروج کے علاقے پر دھاوا بولا گیا۔
رام اللہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ترمسعیا قصبہ کے داخلی راستے کا گیٹ بند کر دیا، جس سے شہریوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی اور پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا۔ یہ اقدامات قابض اسرائیل کی اس مسلسل پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت مختلف گورنریوں میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جا رہا ہے۔
